.

مظاہرین سڑکوں پر رہے تو کوئی "المیہ" جنم لے سکتا ہے : لبنانی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر میشیل عون کا کہنا ہے کہ ملک میں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں پارلیمانی مشاورت کا آغاز جعمرات تک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ حکومت میں سیاسی شخصیات اور ٹکنوکریٹس کی شمولیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

منگل کے روز بعبدا میں صدارتی محل کے اندر لبنانی میڈیا پرسنز کے ساتھ گفتگو میں عون نے کہا کہ مظاہرین کو مکالمے کی دعوت دی گئی تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ لبنانی صدر کے مطابق مظاہرین کے مطالبات سُن لیے گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر احتجاج کرنے والے افراد سڑکوں پر رہے تو کوئی "المیہ" بھی جنم لے سکتا ہے۔

عون کا مزید کہنا تھا کہ عوام کے مطالبات برحق ہیں اور اسی واسطے اُن کو بات چیت کی دعوت دی گئی۔ تاہم لبنانی صدر نے باور کرایا کہ حکومت میں جبران باسیل کی شرکت کو کوئی ویٹو نہیں کر سکتا۔

عون کے مطابق ریاست کی تعمیر کے لیے 3 نکاتی پروگرام پر عمل کیا جانا چاہیے۔ یہ تین نکات انسداد بدعنوانی، اقتصادی صورت حال کی بہتری اور شہری ریاست کی تاسیس ہے۔

میشیل عون کا موقف سامنے آنے سے قبل حکومتی تشکیل سے متعلق مشاورت بند گلی میں گھوم رہی تھی۔ اس کی وجہ دو جماعتوں "فری نیشنل کرنٹ" اور "حزب الله" کی ہٹ دھرمی ہے جنہوں نے لبنانی عوام کے مطالبات کی سطح پر حکومت تشکیل دینے کو مسترد کر دیا تھا۔ یہ دونوں جماعتیں تھوڑا بہت میک اپ کر کے سابقہ مستعفی حکومت کا تجربہ دہرانا چاہتی ہیں۔ وہ سیاسی کوٹے اور منفعتوں کی تقسیم پر مُصر ہیں۔ دوسری جانب سعد حریری سیاسی شخصیات سے دور رہ کر ٹکنوکریٹس پر مشتمل حکومت چاہتے ہیں۔

فری نیشنل کرنٹ جماعت کی تجویز ہے کہ نئی حکومت گھسے پٹے ناموں سے خالی ہو اور اس میں خصوصی مہارت کی حامل شخصیات شامل ہوں۔ تاہم شرط یہ ہے کہ ان شخصیات کے نام سیاسی جماعتوں کی جانب سے پیش کیے جائیں۔

دوسری جانب شیعہ جماعتیں حزب اللہ اور امل موومنٹ حالیہ حکومت سے ملتی جلتی حکومت چاہتے ہیں جس میں سیاسی شخصیات اور ٹکنوکریٹس دونوں شامل ہوں۔ ان جماعتوں کا موقف ہے کہ پارلیمنٹ میں قائم توازن کو بائی پاس کرنا کسی طور روا نہیں۔

المستقبل گروپ کے سربراہ سعد حریری، پروگریسو سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ ولید جنلاط اور لبنانی فورسز پارٹی کے سربراہ سمیر جعجع کا زور اس بات پر ہے کہ فی الوقت لوگوں کے مطالبات پر کان دھرنے کی ضروت ہے لہذا ایک ان مطالبات کو نظر انداز نہ کیا جائے اور ایک خود مختار حکومت کی تشکیل کی جانب جایا جائے۔ یہ حکومت ماہرین پر مشتمل ہو جس میں سیاسی قوتوں کی نمائندگی نہ ہو اور اس حکومت کا مشن معیشت کی خراب صورت حال کی درستی ہو۔

ادھر اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدے دار نے لبنانی حکام پر زور دیا ہے کہ جلد از جلد ایک نئی حکومت تشکیل دی جائے جس میں اہلیت کی حامل معروف شخصیات شامل ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی حکومت بین الاقوامی امداد طلب کرنے کے حوالے سے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہو گی۔

لبنان میں اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار یان کوبیش نے منگل کے روز صدر میشیل عون سے ملاقات کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا (لبنان کی) "مالی اور اقتصادی صورت حال خطرناک ہے۔ حکومت اور دیگر حکام اس کی درستی کے لیے مزید انتظار نہیں کر سکتے"۔