.

میشیل عون کے انٹرویو پر لبنانی مظاہرین چراغ پا ، صدارتی محل کے سامنے مظاہرے کی کال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں "العربيہ" اور "الحدث" نیوز چینلوں کی خاتون رپورٹر نے بتایا ہے کہ بعبدا میں سیکورٹی ہائی الرٹ ہے اور وہاں بھاری تعداد میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام لبنان میں مظاہرین کی اُس کال کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بدھ کے روز بعبدا میں صدارتی محل کے سامنے احتجاج کی دعوت دی تھی۔ اس دوران درجنوں مظاہرین نے بستر بچھا کر اور ٹائر جلا کر بعض راستوں کو بند کر دیا ہے۔

لبنانی عوام کی جانب سے مظاہروں کی کال صدر میشیل عون کے منگل کے روز نشر ہونے والے انٹرویو کے فوری بعد سامنے آئی۔ اس انٹرویو نے مظاہرین کے جذبات کو شدت کے ساتھ بھڑکا دیا جب کہ اس دوران لبنان میں احتجاج کے آغاز کے بعد پہلی ہلاکت بھی واقع ہوئی۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق فوج نے بیروت میں الکولا پُل کے نزدیک راستے کو طاقت کے ذریعے پھر سے کھول دیا۔ اس سے قبل مظاہرین نے دارالحکومت بیروت سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ٹائر جلا کر راستوں کو بند کر دیا تھا۔

لبنانی صدر کے انٹرویو کے بعد عوامی حلقوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ صدر میشیل عون نے اپنی گفتگو میں مظاہرین سے اپنے گھروں کو لوٹ جانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ مظاہرین کے مطالبات سُن لیے گئے ہیں۔ عون نے خبردار کیا کہ اگر احتجاج میں شریک افراد سڑکوں پر رہے تو اس کا انجام ایک "المیے" کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

بیروت، البقاع اور طرابلس میں مشتعل مظاہرین نے متعدد راستے بند کر دیے۔ اس واسطے ٹائروں کو آگ لگائی گئی ، رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور بڑے پیمانے پر کچرا بھی پھیلایا دیا گیا۔

بیروت میں الکولا پُل کے نزدیک راستہ کھلوانے کی کوشش پر لبنانی نوجوانوں نے فوج پر پتھراؤ کیا۔ علاقے میں مظاہرین اور فوج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

مظاہروں میں تشدد کا عنصر اس وقت دیکھنے میں آیا جب لبنانی میڈیا نے خلدہ کے تکون کے نزدیک فائرنگ سے ایک نوجوان کی ہلاکت کی خبر نشر کی۔ سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک شخص کو خون میں لت پت زمین پر پڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ خیال ہے کہ ہلاک ہونے والا لبنانی الشویفات کی بلدیہ کا رکن ہے۔

بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ ہلاک ہونے والا شخص Progressive Socialist Party میں الشویفات کی داخلی ایجنسی کا سکریٹری جنرل علاء ابو فخر ہے۔ وہ اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ بیروت کے جنوبی علاقے خلدہ میں اُس مجمع میں شامل تھا جس نے وہاں راستے بند کیے۔

ادھر لبنانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ خلدہ کے علاقے میں ایک فوجی گاڑی کے گزرنے کے دوران مظاہرین کے ایک گروپ کے ساتھ تصادم ہو گیا۔ اس دوران عسکری اہل کاروں کو دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑا جس پر ایک اہل کار نے مجمع منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کر دی۔ اس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ گولی چلانے والے فوجی اہل کار کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

دوسری جانب پروگریسو سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ ولید جنبلاط نے لبنان میں جاری عوامی تحریک میں سرکاری طور پر شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

جنبلاط کا یہ اعلان علاء ابو فخر کی موت کے بعد سامنے آیا جو خلدہ کے پُل کے نیچے فائرنگ کا نشانہ بنا۔ جنبلاط نے اُس ہسپتال کا دورہ بھی کیا جہاں علاء کی لاش منتقل کی گئی تھی۔

بعد ازاں وہ مقتول کے گھر گئے اور وہاں اس کی موت پر تعزیت کی۔

دوسری جانب نگراں حکومت میں وزارت تعلیم کے وزیر اکرم شہیب کے میڈیا بیورو کی جانب سے جاری بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ بدھ 13 نومبر 2019 کو ملک میں تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔