.

ایران : پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے عوامی احتجاج بھڑکا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ نافذ العمل ہونے کے بعد جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب متعدد شہروں میں عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا۔ اس موقع پر سڑکوں پر شہریوں کی گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جنہوں نے نئے نرخوں پر ایندھن بھروانے سے انکار کر دیا۔ شہریوں نے حکومت سے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران میں حکام کے نئے فیصلے کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت 3 ہزار ایرانی تومان (تقریبا 36 سینٹ) ہو گئی ہے۔ پٹرول کی سابقہ قیمت 1 ہزار ایرانی تومان (تقریبا 12 سینٹ) تھی۔

ایران میں سوشل میڈیا پر کئی تصاویر اور وڈیو کلپ وائرل ہو رہے ہیں جن میں اصفہان، الاہواز اور ارومیہ میں سیکڑوں شہریوں کو پٹرول اسٹیشنوں پر طویل قطاروں میں کھایا گیا ہے۔ اسٹیشنوں کے نزدیک سیکورٹی فورسز اور ہنگامہ آرائی کے انسداد کی فورسز کے اہل کار بڑی تعداد میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔

ایران کو پابندیوں کے سبب ایک بڑے اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ ایرانی حکومت 21 مارچ سے شروع ہونے والے آئندہ عام بجٹ میں خام تیل کی آمدنی کا حصہ صفر تک جانے کے مسئلے کا حل تلاش کر رہی ہے۔

ایرانی صدر نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ تیل کی برآمدات پر پابندی جاری رہنے کے ساتھ ملک کے انتظامی امور نہیں چلا سکتے۔ روحانی نے تجویز پیش کی تھی کہ بجٹ میں خسارے کی تلافی اور ریاست کے خزانے میں کمی کو پورا کرنے کے لیے کمپنیوں اور شہریوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ ایران میں معاشی اور اقتصادی صورت حال کی ابتری کے سبب گذشتہ سال سے ملک کے زیادہ تر صوبوں میں مختلف صورتوں میں احتجاج اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ادھر ایرانی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اب پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔

ایرانیوں کی ماہانہ اوسط آمدنی 200 ڈالر سے زیادہ نہیں ہے اور اس رقم میں مشکل سے 8 روز ہی گزر پاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں محنت کش اضافی کام تلاش کرنے پر مجبور ہیں تا کہ پورے ماہ کے معاشی اخراجات کو ممکن بنایا جا سکے۔