.

عراق میں "ثابت قدمی کا جمعہ" ، مظاہرین کا 40 برس تک ڈٹے رہنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی دارالحکومت بغداد اور ملک کے مختلف حصوں بالخصوص جنوبی علاقوں میں کھلے میدانوں میں بستر بچھائے مظاہرین نے آج " ثابت قدمی کا جمعہ" کے نام سے بھرپور احتجاج کی کال دی ہے۔ گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری پرتشدد مظاہروں میں اب تک 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جمعرات کے روز بھی بغداد میں کم از کم 4 مظاہرین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ نجف شہر میں عام ہڑتال دیکھی گئی۔

جمعرات کے روز متعدد مظاہرین خون میں لت پت اور مٹی سے اٹے ہوئے کپڑوں میں دارالحکومت بغداد کی چیک پوسٹوں پر کھڑے ہو گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

یکم اکتوبر کو حکومت مخالف احتجاجی تحریک شروع ہونے کے بعد سے ہزاروں عراقی نوجوان ان مظاہروں میں شریک ہیں۔ احتجاج کا یہ سلسلہ تیزی کے ساتھ ملک کے جنوبی حصوں کی جانب پھیل گیا۔

اگرچہ سیکورٹی فورسز نے پُر امن مظاہروں کو روکنے کے لیے بیشر اوقات براہ راست فائرنگ، ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا تاہم اس کے باوجود مظاہرین کھلے میدانوں میں ڈٹے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ عراق کے تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود بہت سے عراقی شہری انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان لوگوں کو صاف پانی، بجلی، صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات حاصل نہیں۔

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی جانب سے بعض اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا مقصد احتجاج کی بھڑکی اُس آگ کو ٹھنڈا کرنا ہے جو سال 2003 کے بعد حکمراں اشرافیہ کو چیلنج کرنے والی پیچیدہ ترین مشکل بن چکی ہے۔ مذکورہ اقدامات میں غریبوں کو مالی امداد فراہم کرنا اور یونیورسٹی گریجویٹس کے لیے روزگار کے مزید مواقع فراہم کرنا شامل ہے۔

تاہم یہ اقدامات مظاہرین کی جانب سے بڑھتے مطالبات پر روک نہ لگا سکے۔ اب مظاہرین عراق میں اقتدار کی فرقہ وارانہ تقسیم کے نظام کو گرانے اور عوام کے نزدیک بدعنوان سمجھے جانے والے سیاسی رہ نماؤں کو گھر بھیجنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں احتجاج میں شامل ایک شہری محمد سعید یاسین کا کہنا ہے کہ "ہمارے پاس کچھ نہیں ہے ... نہ اسکول اور نہ کارآمد ہسپتال .. عوام کے لیے کوئی دولت نہیں۔ سیاست دان چوری کے سوا کچھ نہیں جانتے ، وہ ہماری حق چوری کر رہے ہیں ... ہمیں ان بدعنوان ذمے داران سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔ اس کے سوا کوئی حل نہیں"۔

ایک اور شہری حسین نے رائٹرز خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "ہم روزگار سے فارغ نوجوان ہیں، ہمارے پاس نہ ملازمتیں ہیں اور نہ تنخواہیں .. ہم کوچ نہیں کریں گے خواہ یہ احتجاج 40 برس جاری رہے"۔