.

مظاہرین کی ہلاکتوں میں کسی تیسری قوت کا ہاتھ ہے:عراقی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیر دفاع نجاح الشمری نے جمعرات کے روز پیرس میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عراق میں مظاہرین کو ہلاک کرنے میں اوران پر گولیاں چلانے میں کسی تیسری قوت کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2 اکتوبر کے بعد 320 مظاہرین کی ہلاکتوں میں سیکیورٹی فورسز کا کوئی کردار نہیں۔ ان لوگوں کو اس اسلحہ سے نشانہ بنایاگیا جو ہماری پولیس کے پاس نہیں تھا۔

الشمری نے مزید کہا کہ عراقی فوج نے گذشتہ 2 اکتوبر کے بعد مظاہرین کو تحفظ فراہم کرنے کا کام وفاقی پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مظاہرین اور سیکیورٹی اداروں پرحملوں میں ملوث عناصر کسی تیسرے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

اُنہوں نے وضاحت کی کہ عراقی سیکیورٹی فورسز کے زیر استعمال رائفل سے ایک شخص کو 75 سے 100 میٹر کے فاصلے پر مارا سکتا ہے جبکہ کچھ مظاہرین کو ان سے 300 میٹر کی دوری پر گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فرانزک تحقیقات کے ذریعہ ان کے لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرنے اور ان کے جسموں سےنمونے نکالنے کے بعد ہم اس نتیجے تک پہنچے کہ جس طرح کے اسلحہ سے مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ ہمارے سیکیورٹی اداروں کے استعمال میں نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طرح کی بندوقوں اور آنس گیس کے گولوں سے مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ عراقی فوج اور سیکیورٹی اداروں کے لیے نہیں منگوائے گئے۔ اس طرح کا مہلک اسلحہ غیرقانونی طریقے سے عراق لایا گیا۔

داعش کے موضوع پر شمری نے زور دے کر کہا کہ "فرانس اور عراق داعش کے فرار ہونے والے جنگجوئوں کو پکڑنے کے لیے تعاون کر رہے ہیں"۔