.

کنگ عبدالعزیز ڈائیلاگ سینٹر کا خطے میں رواداری سے متعلق پہلے انڈیکس کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے "شاہ عبدالعزیز مرکز برائے قومی مکالمہ" نے اعلان کیا ہے کہ اُس نے خطے میں رواداری سے متعلق اپنی نوعیت کا پہلا انڈیکس تیار کیا ہے۔ اس انڈیکس کے ذریعے معاشرے میں رواداری کی حقیقی صورت حال کو جانا جا سکتا ہے۔ مرکز کی جانب سے یہ بات جمعرات 14 نومبر کو متحدہ عرب امارات میں دوسرے عالمی رواداری اجلاس میں شرکت کے دوران کیا گیا۔ اجلاس کا انعقاد امارات میں رواداری کے بین الاقوامی ادارے کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر شاہ عبدالعزیز مرکز کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ الفوزان نے واضح کیا کہ یہ مرکز معاشرے میں رواداری، باہمی بقا اور امن کی اقدار کو راسخ کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہے ،،، اور اس سلسلے میں مرکز نے سائنسی تحقیقات اور زمینی مطالعات کے اجرا کے ذریعے وسیع تجربہ حاصل کر لیا ہے۔ ایونٹ میں سعودی عرب کے کئی قومی اداروں کے نمائندے شریک ہیں۔

الفوزان کے مطابق اُن کے مرکز کی جانب سے تیار کیے جانے والے انڈیکس کا مقصد معاشرے میں رواداری کی سطح کو جانچنا اور مملکت کے شہریوں میں رواداری کی اقدار کو پھیلانا اور مضبوط بنانا ہے۔

مرکز کے سکریٹری جنرل نے مملکت کے اندرون باہمی بقا کے تجربے اور اُن کوششوں کا جائزہ لیا جو ویژن 2030 کے ذریعے مکالمے اور رواداری اور امن کی اقدار کو راسخ بنانے کے واسطے کی جا رہی ہیں۔ اس امر نے مذکورہ منصوبے کو عالمی سطح پر ایک نمونہ بنا دیا ہے۔

یاد رہے کہ رواداری کے عالمی اجلاس کی سرگرمیوں کا آغاز متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کے زیر سرپرستی ہوا۔ یہ عالمی سطح پر اپنی نوعیت کا پہلا ایونٹ ہے جس کا مقصد مختلف سیاسی نقطہ ہائے نظر اور ثقافتی اور مذہبی اختلاف سے قطع نظر لوگوں کے درمیان زندگی کے ہر پہلو سے رواداری ، امن اور مساوات کے معاملات کی درستی ہے۔

اس بات کی پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ رواداری کا عالمی اجلاس مکالمے کا ایک ایسا کھلا پلیٹ فارم ہو جس کا مقصد انسانی اقدار کو مضبوط بنانا، رواداری اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کے بنیادی اصولوں کو پھیلانا اور دنیا بھر میں امن و محبت کا پیغام پھیلانا ہے۔ اس واسطے مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان مکالمے اور مفاہمت کی زبان مؤثر ترین آلہ ہے۔

عالمی رواداری اجلاس میں اعلی سطح کی 3 ہزار سے زیادہ شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں مقامی اور بین الاقوامی ذمے داران، ماہرین، اکیڈمکس اور مذہبی شخصیات شامل ہیں۔