.

اسرائیل کمزور فائر بندی کو برباد کرنے کے درپے، غزہ میں مزید حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں جزوی فائر بندی کا کمزور معاہدہ دو روز سے نافذ العمل ہے تاہم العربیہ کے ذرائع نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ پٹی میں فلسطینی گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں حماس کے ٹھکانوں پر بھی حملے کیے گئے جن میں پولیس کا ایک صدر دفتر شامل ہے۔

اسرائیلی طیاروں نے غزہ پٹی کے شمال میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ٹھکانے پر 6 اور غزہ کے شمال مغرب میں القسام کی بحری فورس کے ٹھکانے پر 9 میزائل داغے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ پٹی کے شمال میں بھی مزاحمتی تنظیم کے ایک ٹھکانے کو کئی میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

اس سے قبل العربیہ کے نمائندے بتایا تھا کہ اسرائیل کے جنوبی شہر بئر السبع میں دفاعی نظام آئرن ٹومب نے دو راکٹوں کو فضا میں تباہ کر دیا۔ اس دوران مذکورہ شہر اور اس کے اطراف خطرے کے سائرن بجائے گئے اور لوگوں میں بدحواسی کا عالم دیکھا گیا۔

یاد رہے کہ موجودہ کشیدگی نے منگل کو علی الصبح اُس وقت جنم لیا تھا جب قابض اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے مشرق میں اسلامی جہاد تنظیم کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز کے کمانڈر بہاء ابو العطاء کے گھر کو نشانہ بنایا۔ الشجاعیہ کے علاقے میں ہونے والے اس حملے میں ابو العطاء اپنی بیوی اسماء سمیت جاں بحق ہو گیا جب کہ تین افراد زخمی ہوئے۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں ابو العطاء کو حالیہ چند ماہ کے دوران اسرائیل پر راکٹ گرینیڈز داغنے کی کارروائیوں کا ذمے دار ٹھہرایا گیا تھا۔

اسرائیل اور غزہ پٹی کے بیچ اس قابل ذکر کشیدگی میں شدت آنے کے بعد مصر نے حالات کو معمول پر لانے کے لیے فائر بندی کی کوششیں کیں۔ اسی طرح یورپی یونین نے بھی جارحیت کا سلسلہ جلد اور مکمل طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تا کہ اسرائیل اور غزہ پٹی میں راکٹ حملوں اور فضائی یلغاروں کا سلسلہ تھم سکے۔