.

امریکا کو مطلوب داعش تنظیم کا ایک اہم ترین کمانڈر یوکرین کے قبضے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین میں ریاستی سیکورٹی کے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ اس نے داعش تنظیم کے ایک کمانڈر ابو عمر الشیشانی کے نائب کو گرفتار کر لیا ہے۔ مذکورہ نائب گذشتہ برس جعلی پاسپورٹ پر یوکرین میں داخل ہوا تھا۔ واضح رہے کہ امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے ابو عمر الشیشانی کو داعش کا "وزیرِ جنگ" قرار دیا تھا۔

یوکرین کے ریاستی سیکورٹی ادارے نے جمعے کے روز ایک بیان میں بتایا کہ البراء الشیشانی کا تعلق جارجیا سے ہے۔ اس کی گرفتاری جارجیا کی وزارت داخلہ اور امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے ساتھ مشترکہ آپریشن میں عمل میں آئی۔

بیان کے مطابق سی آئی اے کے پاس موجود البراء کی تصویر کی جانچ سے ثابت ہو گیا کہ گرفتار غیر ملکی واقعتا داعش کا ایک مطلوب رہ نما ہے۔

ادھر یوکرین کے ریاستی سیکورٹی کے ادارے کی ترجمان ویکا کلیمچیوا کا کہنا ہے کہ "ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں اور (پیدائش کے سرٹفکیٹ میں) اس کا نام سیزر توخوساشویلی ہے"۔

یاد رہے کہ البراء نے 2015 میں داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ ابو عمر الشیشانی کا نائب رہا۔ ابو عمر 2016 میں لڑائی کے دوران مارا گیا اور وہ امریکا کو مطلوب اہم ترین شدت پسندوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر رکھی گئی تھی۔

یوکرین کے ریاستی سیکورٹی کے ادارے کے مطابق ابو عمر الشیشانی کی ہلاکت کے بعد البراء سرحد پار کر کے ترکی پہنچ گیا اور پھر یوکرین چلا آیا۔ یہاں اس نے داعش تنظیم کی سرگرمیوں کے لیے رابطہ کاری جاری رکھی۔ البراء کو کیو کے علاقے میں اس کی قیام گاہ کے نزدیک سے گرفتار کیا گیا۔ تاہم گرفتاری کی تاریخ کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔