.

سابق ایرانی بادشاہ کے بیٹے نے حکومت مخالف احتجاج کی حمایت کر دی

مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 36 ہوگئی،1000 سے زاید گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق باد شاہ کے صاحب زادے رضا پہلوی نے اپنے ایک صوتی پیغام میں ملک میں حکومت کے خلاف جاری عوامی احتجاج کی تحریک کی مکمل حمایت کی ہے۔

ان کا یہ بیان ایران انٹرنیشنل عریبک ویب سائٹ کے ٹویٹر اکائونٹ پر نشرہوا ہے۔

رضا پہلوی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاج ملک میں قومی یکجہتی کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔

حکومت کی طرف سے میڈیا کو رسائی فراہم کرنے سے روکنے کے باوجود ایران کے درجنوں شہروں اور صوبوں میں مظاہرے جاری ہیں۔ کرمان شاہ میں جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق احتجاج کے دوران لوٹ مار اور توڑپھوڑ کےواقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

فارسی میں نشریات پیش کرنے والے فردا ریڈیو نے اتوار کے روز بتایا کہ ایران کے احتجاج میں چھتیس افراد مارے گئے۔

ایرانی حزب اختلاف نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ملک میں ہونے والے مظاہروں میں 27 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ ذرائع نے "العربیہ" اور "الحدث" کو بتایا کہ ایرانی سیکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز تہران کے خمینی اسکوائر میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ ایران میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تین گنا اضافے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے اب تک 1000 مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔