.

ناقابل یقین: 9 سالہ بچہ الیکٹریکل انجینیرنگ میں پی ایچ ڈی کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرکوئی کہے کہ نو سالہ بچے نے الیکٹریکل انجینیرنگ میں گریجوایشن کی ہےیا وہ کرنے کی تیاری کررہا ہے تو اس پر کسی کو یقین نہیں آئے گا مگر یہ معجزاتی خبر ایک حقیقت ہے۔ ایک نو سالہ بیلجیئن جس کی ماں ڈچ نسل سے اس وقت گریجوایشن کررہا ہے۔ عن قریب وہ اپنے اس مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرلے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 9 سالہ لوران سایمنز کے والد بیلجئین سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ والد ڈنمارک سے ہیں۔ لوران نیدرلینڈس کی یونیورسٹی آف آئندھوون میں الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہا ہے۔ اگرچہ اس عمر کے کسی بچے کا اس تعلیمی مرحلے تک پہنچنا آسان نہیں مگر یہ اس نے اسے حقیقت ہے۔

یونیورسٹی کے عملےاور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچہ "غیر معمولی" ہے۔ آئندہ ماہ یہ بچہ بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے جا رہا ہے۔

انہوں نے 'سی این این' کو بتایا کہ بیلجیئم سے تعلق رکھنے والا یہ بچہ الیکٹریکل انجینیرنگ میں ڈاکٹریٹ کرنے اور اس کے بعد میڈیکل میں بھی تعلیم حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

لوران کے والدین کا کہنا ہے کہ بچے میں بچپن ہی سے غیرمعمولی صلاحیتیں تھیں۔

اس کے والد الیگذنڈر نے بتایا کہ دادا اور دادی اکثر لوران کو " قدرت کا تحفہ" قرار دیتے ہیں لیکن والدین نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے زیادہ توجہ نہیں دی۔

پچھلے بیانات میں اس کے والدین نے انکشاف کیا تھا کہ لوران کی ذہانت کی مقدار 145 فیصد ہے۔

الیکذنڈر نے ان "مشکلات" کی طرف توجہ مبذول کروائی جو ان کے بیٹے کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پیش آئیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ اسے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اسے اپنی عمر کے کسی دوسرے بچے کی طرح کھیلوں میں اتنی دلچسپی نہیں تھی۔

الیکٹرک انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے والے ڈائریکٹر ایجوکیشن سورڈ ہولوچف نے کہا کہ یہ غیرمعمولی بات ہے کہ کوئی بچہ اتنی کم عمری میں تعلیم کے اعلیٰ مدارج طے کرے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمارے تیز ترین طالب علم ہیں۔ لوران نہ صرف ہوشیار ہے بلکہ بہت دوستانہ بھی ہے۔

اس کے والدین نے بتایا کہ دنیا بھر کی معروف یونیورسٹیاں لارینٹ کو داخلہ دینا چاہتی ہیں جبکہ لوران ڈچ یونیورسٹی آف آئندھوون میں اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔

اگرچہ لوران کسی سے کہیں زیادہ جلدی سیکھ سکتا ہے ، لیکن اس کے والدین اس سے دیگرمشاغل سے لطف اندوز ہونے کے لیے بے چین ہیں۔

ان کے والد نے کہا کہ ہمیں ان کی صلاحیتوں اور بچہ ہونے کی حیثیت سے اس میں توازن تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

لوران کا کہنا ہے کہ کھیل کود اسے بھی پسند ہے مگر وہ دوسرے بچوں کی نسبت اپنے کتے سامی اور موبائل فون پر کھیل کو زیادہ پسند کرتا ہے۔ بیلجیم کا یہ بچہ مستقبل میں مصنوعی اعضاء تیار کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔