.

اخوانی لیڈر جو سعودی عرب کے خلاف پاسداران انقلاب کے اجلاس میں شامل ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مذہبی جماعت اخوان المسلمون کی سعودی عرب کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں اور اخوان کا ایران کے ساتھ گٹھ جوڑ کوئی راز کی بات نہیں رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سعودی عرب کو کمزور کرنے میں پیش پیش ہیں۔

حال ہی میں امریکی ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب کے خلاف کام کرنے کے لیے اخوان اور ایران کے گٹھ جوڑ کی نئی تفصیلات بیان کی ہیں۔

امریکی ویب سائٹ 'دی انٹرسیپٹ' کے ذریعہ شائع ایرانی انٹیلی جنس دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سنہ 2014ء اخوانی لیڈروں اور ایرانی پاسداران انقلاب کا ترکی کی میزبانی میں ایک اجلاس ہوا جس میں یمن کی سرزمین کو سعودی عرب کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ تیار کیاگیا۔

خفیہ دستاویزات کے مطابق اس اجلاس میں اخوان المسلمون کے تین سرکردہ جلا وطن مصری رہ نمائوں ابراہیم منیر ، محمود الابیاری اور یوسف ندا شامل تھے۔

ترکی میں پاسداران انقلاب کے اجلاس میں شرکت کرنے والے اخوانی لیڈر کون ہیں؟۔

ابراہیم منیر

ابراہیم منیر برطانوی دارالحکومت لندن میں واقع کمیونٹی کی بین الاقوامی تنظیم کے سکریٹری جنرل ہیں اور "پیغام" کے نام سے اس گروپ کی میڈیا سائٹ کی نگرانی کرتے ہیں ۔ ابراہیم انتظامی دفاتر کی ذمہ داریاں ادا کرتے اور ہدایات کو ایک سےدوسرے مقام پر منتقل کرتے ہیں۔ جماعت کے خبریں شائع کرتے ہیں اور میڈیا پروپیگنڈے کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع کو استعمال کرتے ہیں۔

ابراہیم سنہ 1937ء کو مصر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 16 سال کی عمر میں اخوان میں شمولیت اختیار کی۔ 1965 میں اخوان سے تعلق کے الزام میں انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جیل سے رہائی کے بعد وہ برطانیہ آگئے جہاں انہوں نے اخوان کی سرگرمیوں میں کام جاری رکھا۔ برطانیہ میں اخوان کے شعبہ دعوت و ارشاد کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور اس اخوان کی ترویج واشاعت میں پیش پیش رہے۔

30 جون 2013 ء کو مصر میں فوجی بغاوت کے بعد جب مصر میں اخوان لیڈروں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا۔ جماعت کے لیڈروں کو گرفتار کیا گیا اور بہت سے بیرون ملک فرار ہوگئے تو ابراہیم منیر کو جماعت کی مالی معاونت اور بیرون ملک فرارہونے والوں کی لاجسٹک معاونت کی ذمہ داری سونپی گئی۔

یوسف ندا

اخوان کے دوسرے سرکردہ رہ نما جنہوں نے سعودی عرب کے خلاف سازش کے لیے ایرانی پاسداران انقلاب کے اجلاس میں شرکت کی یوسف ندا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

ان کا پورا نام یوسف مصطفی علی ندا ہے جو 1931ء کو مصر کے شمال میں اسکندریہ گورنری میں پیدا ہوئے۔ ان کے پاس مصری شہریت کے علاوہ اطالوی شہریت بھی ہے۔

انہوں نے ابتدائی عمر میں ہی اخوان میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ سنہ 1954ء میں اسکندریہ کے شہر المنشیہ میں مرحوم صدر جمال عبد الناصر پر قاتلانہ حملے کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انھیں 1956 میں رہا کیا گیا تھا۔ اسکندریہ یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ 1960 میں یورپ چلے گئے۔ آسٹریا اور اٹلی میں قیام پذیر رہے۔ اٹلی میں کامیبونا نامی علاقے میں انہوں نے سکونت اختیار کی۔

سنہ 1988ء میں انہوں نے جماعت کے لیڈروں کےاثاثے محفوظ کرنے کےلیے جزائر البھاما میں تقویٰ بنک کے نام سے ایک بنک قائم کیا۔نومبر 2001ء کو جب اس وقت کے امریکی صدر نے دہشت گردوں کو فنڈنگ فراہم کرنے والی تنظیموں اور اداروں کو بلیک لسٹ کیا تو تقویٰ بنک بھی اس کی لپیٹ میں آگیا۔ امریکا نے اس کے تمام اثاثے منجمد کردیئے۔

ندا کا ایران کے ساتھ مضبوط رشتہ اور تعلق قائم رہا ۔ وہ سنہ 1970ء کی دہائی سے تنظیم اور ایران کے مابین مرکزی رابطہ کار کے طور پرکام کرتے رہے۔ 1979 میں انقلاب کی کامیابی پر خمینی کو مبارکباد دینے کے لیے اخوان کے جس وفد نے ایران کا دورہ کیا تھا اس کی قیادت یوسف ندا نے کی تھی۔

اسی طرح کے ایک دورے میں یوسف ندا نے ایرانی سپریم لیڈر کو اخوان کے مرشد عام عمرالتلمسانی کا پیغام پہنچایا جس میں انہوں نے ایران میں اخوان کی شاخ قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ خمینی نے اس سے اتفاق کیا اور کہا کہ وہ خود بھی حسن البناء سے بہت متاثر ہیں۔

محمود الإبياري

ترکی میں سعودی عرب کے خلاف گٹھ جوڑ کرنے والی اخوانی قیادت میں تیسرا نام محمود الابیاری کا ہے۔ انہوں نے یوسف ندا اور ابراہیم منیر کی موجودگی میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ مل کر سعودیہ کے خلاف تانا بانا تیار کیا تھا۔

الابیاری کو اخوان المسلمون کی بین الاقوامی تنظیم میں '' پراسرار شخصیت'' سمجھا جاتا ہے۔ بیرون ملک اخوان تنظیم کے وہ تیسرے رہ نما ہیں۔ وہ یورپی براعظم میں اخوان المسلمین کی انتظامی اور مالی ذمہ داریوں کا ذمہ دار ہے۔ وہ بین الاقوامی تنظیم کی ہدایت پر اس گروپ کی کمپنیوں اور اداروں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے۔

اس گروپ کے ایک رہ نما امیر بسام کی آڈیو لیک میں حال ہی میں اس کے نام کا ذکر ہوا ہے ، جس میں اس نے محمود حسین اور محمد البحیری کے ساتھ مل کر اخوان کے فنڈز ضبط کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

الابیاری لندن میں اخوان المسلمون کی بین الاقوامی تنظیم کا اسسٹنٹ سکریٹری جنرل ہے۔ وہ اس گروپ کے میلنگ گروپ کا بھی ذمہ دار ہے۔ وہ مرشد عام کی طرف سے خصوصی پوسٹل گروپ کے ذریعہ اخوان کے باقی رہ نماؤں کو ہدایات اور اسائنمنٹس منتقل کرتا ہے جس میں رہ نماؤں کا ایک تنگ حلقہ بھی شامل ہے۔