.

بحیرہ احمر میں حوثیوں کے ہاتھوں جہاز کا اغواء سنگین جرم ہے: سعودی عرب

سعودی عرب فلسطینی پناہ گزینوں کو مالی امداد فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے منگل کے روز ایک بیان میں یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے ہاتھوں بحری جہاز کے اغواء کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے حوثی ملیشیا کے جرائم کا تسلسل قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی کابینہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حوثیوں کا حملہ مسلح ڈکیتی اور بحری قذاقی کی بدترین مثال ہے جس نے باب المندب میں جہاز رانی کی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت یمامہ پیلس میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر یمن میں حوثی ملیشیا کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں اور باب المندب سے ایک بحری جہاز کے اغواء پرغور کیا گیا۔ اس موقع پر عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ فلسطینی قوم کواسرائیلی ریاست کے مظالم اور جبرو تشدد سے تحفظ فراہم کرے۔

اجلاس کے بعد پریس کو جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے انتقامی حربوں کی روک تھام کی جائے اور عالمی برادری فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ کابینہ کے اجلاس میں فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں اور نہتے شہریوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

سعودی کابینہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے قائم اقوام متحدہ کی امدادی اور بحالی کے کاموں سے متعلق ایجنسی 'اونروا' کے مینڈیٹ میں تین سال کی تجدید کے فیصلے کو سراہا اور کہا کہ سعودی عرب فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کی حمایت جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی مالی مدد جاری رکھے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے فلسطینیوں کودی جانے والی مجموعی امداد ستمبر میں سات ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔ ستمبر میں سعودی عرب کی طرف سے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے 55 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا۔ اس طرح سعودی عرب فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔