.

بغداد میں عراقی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں چار مظاہرین ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی اور اسپتال کے حکام نے جمعرات کے روز بتایا ہے ان میں ایک شخص احرار پُل پر گولی لگنے سے ہلاک ہوا ہے۔ وہاں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کردی تھی۔

بغداد شہر میں دریائے دجلہ پر واقع ایک اور پُل السنک پر بھی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو پسپا کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اور ایک گولہ لگنے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

دارالحکومت میں احتجاج کرنے والے مظاہرین نے شہر کی حدود میں واقع دجلہ کے تین پلوں السنک ، الاحرار اور الجمہوریہ کے بعض حصوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ دریائے دجلہ پر یہ پُل بغداد شہر کو قلعہ نما گرین زون سے ملاتے ہیں جہاں حکومت کے دفاتر ، پارلیمان اور دوسرے ممالک کے سفارت خانے واقع ہیں۔

عراقی حکومت نے گرین زون کی جانب سکیورٹی فورسز کو تعینات کررکھا ہے اور کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کررکھی ہیں تاکہ مظاہرین اس علاقے کی جانب دراندازی نہ کرسکیں۔

مظاہرین اس ماہ کے اوائل میں الاحرار پل پر کنٹرول میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن بعد میں عراقی سکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا تھا اور انھیں وہاں سے پسپا کردیا تھا۔

بغداد اور عراق کے جنوبی شہروں میں یکم اکتوبر سے حکومت مخالف پُرتشدد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ان میں کم سے کم چار سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔عراقی سکیورٹی فورسز کے اہلکاراحتجاجی ریلیوں میں شریک مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلاتے ہیں جس سے اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے اور2003ء میں امریکا کی چڑھائی کے بعد عراق میں نافذ سیاسی نظام میں مکمل اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔وہ ملک کی سیاسی اشرافیہ کی بڑے پیمانے پر کرپشن ، قومی خزانے کی لوٹ کھسوٹ، بے روزگاری کی بلند شرح اور سرکاری خدمات کے پست تر معیار کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔