.

شام میں اسدی اور روسی فوج کے حملوں میں 21 شہری جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے 'آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شمال مغربی صوبے ادلب شامی حکومت کی وفادار فوج اور روسی فوج کے حملوں کے نتیجے میں بدھ کے روز کم از کم 21 شہری ہلاک ہوگئے۔

ترکی کی سرحد کے قریب ادلب گورنری کے شمال میں واقع قاح گاؤں کے قریب بے گھر افراد کے لیے ایک کیمپ پر میں اس وقت 6 بچوں سمیت پندرہ شہری ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہوگئے جب زمین سے زمین پر مار کرنے والا ایک میزائل اس کیمپ میں آ گرا۔

دوسری جانب آبزرویٹری نے روسی جنگی طیاروں کی بمباری میں 4 بچوں سمیت 6 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ادلب کے جنوب میں شہر معری النعمان میں روسی فوج نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔ رصد گاہ کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمن نے بھی توقع کی ہے کہ سنگین نوعیت کی بمباری میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

صوبہ ادلب کے بیشتر حصوں کو تحریر الشام نامی گروپ کنٹرول کرتا ہے۔ اس میں 30 لاکھ افراد آباد ہیں ، جن میں سے نصف دوسرے علاقوں سے بے گھرہونے بعد یہاں منتقل ہوئے ہیں۔

اگست کے آخر میں ، شامی حکومت کی افواج نےروسی تعاون کے ساتھ ادلب اور حماۃ میں فوجی کارروائی کا آغاز کیا جس میں انہوں نے کئی اہم علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

جنگ بندی کے باوجود اس علاقے پر اسد رجیم اور روسی فوج حملے کرتی ہیں۔ اگست کے آخر تک اس علاقے میں ہونے والے حملوں میں 110 شہری مارے گئے تھے۔

آبزرویٹری کے مطابق چار ماہ تک جاری رہنے والی اس کارروائی سے چار لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے