.

مصر کی سابق خاتون اوّل سوزان مبارک سخت علیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی 78 سالہ اہلیہ سوزان مبارک اچانک علیل ہوگئی ہیں اور اس وقت اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل ہیں۔

سابق خاتون اوّل کے بیٹے علاء مبارک نے بدھ کی شب ایک ٹویٹ میں ان کی اچانک طبیعت بگڑنے کی اطلاع دی ہے اور ساتھ ہی انھوں نے اپنے چاہنے والوں کو یہ دلاسا دینے کی کوشش کی ہے کہ ’’ان شاء اللہ سب چیزیں ٹھیک ہوجائیں گی۔‘‘

واضح رہے کہ حسنی مبارک کے 30 سالہ دورِ حکمرانی میں ان کی اہلیہ سوزان سیاسی طور پر بڑی بااثر خاتون رہی تھیں ۔انھوں نے ملک میں مختلف منصوبے شروع کرائے تھے۔ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے مصری خواتین کے ختنے کی رسم کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

91 سالہ حسنی مبارک 2011ء کے اوائل میں مصر میں عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ان کے خلاف شروع ہونے والی عرب بہاریہ تحریک کی لہریں مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا میں واقع دوسرے عرب ممالک میں بھی پھیل گئی تھیں اور ان کے مطلق العنان صدور زین العابدین بن علی (تُونس)، معمر قذافی (لیبیا) ،علی عبداللہ صالح (یمن) اور چند سال کے بعد عبدالعزیز بوتفلیقہ (الجزائر) کو اپنے اپنے ملکوں میں احتجاجی تحریکوں کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہونا پڑا تھا۔

حسنی مبارک کے خلاف ان کی معزولی کے بعد بدعنوانیوں اور مظاہرین کی ہلاکتوں سمیت مختلف الزامات میں مقدمات چلائے گئے تھے۔انھیں عمرقید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن بعد میں ان کی سزا میں کمی کردی گئی تھی اور2017ء میں انھیں جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

ان کے دونوں بیٹوں علاء اور جمال مبارک کو بھی بدعنوانیوں کے مختلف مقدمات میں ماخوذ کیا گیا تھا اور انھیں ان میں مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔تاہم وہ اپنی اپنی قید بھگتنے کے بعد اب جیل سے رہا ہوچکے ہیں۔