.

کیا ایرانی انٹیلی جنس "القدس فورس" کی جاسوسی کر رہی ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی جریدے The Intercept نے پیر کے روز جن ایرانی دستاویزات کو اِفشا کیا اُن سے ایرانی وزارت انٹیلی جنس اور القدس فورس کے درمیان تنازع اور مسابقت کی تصویر سامنے آ گئی۔ القدس فورس ،،، ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمے دار تنظیم ہے۔

جریدے کی ویب سائٹ پر جاری رپورٹوں میں 700 صفحات پر مشتمل مذکورہ دستاویزات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں پہلا معاملہ داعش تنظیم کی جانب سے ہیکنگ کی کارروائیوں اور تنظیم کے خلاف لڑائی سے متعلق ہے۔

دوسرا معاملہ ایران کے دو داخلی اداروں کے درمیان تنازع سے متعلق ہے۔ اِفشا ہونے والی دستاویزات کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس کی وزارت نے 2014 میں القدس فورس اور الاخوان المسلمین کے رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اپنا ایک جاسوس چھوڑ دیا تھا۔

مشہور امریکی صحافی جیمز رائزن نے The Intercept ویب سائٹ پر اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس کی وزارت سے اِفشا ہونے والی دستاویزات کے بغور جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ الاخوان کی قیادت اور القدس فورس کے درمیان خفیہ ملاقات میں مشرق وسطی میں جیو پولیٹیکل صورت حال پر توجہ مرکوز رہی۔ یہ ملاقات ترکی میں ایک ہوٹل میں ہوئی تھی۔

رائزن نے اس ملاقات کو اپنی نوعیت کا ایک منفرد اجلاس قرار دیا جو شیعوں کی نمائندگی کا دعوی کرنے والی ایک ریاست اور سنیوں کی نمائندہ ایک تنظیم کے بیچ ہوئی۔

یہ ملاقات سابق مصری صدر محمد مرسی کی معزولی اور موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کے کرسی اقتدار تک پہنچنے کے کچھ عرصے بعد ہوئی تھی۔ اس کا مقصد الاخوان تنظیم اور ایرانی نظام کے درمیان تعاون کی راہیں تلاش کرنا تھا۔

رائزن کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب الاخوان تنظیم مصر میں اقتدار سے ہاتھ دھو چکی تھی جب کہ داعش تنظیم عراق میں شمالی حصے کی جانب پیش قدمی کر رہی تھی۔

رائزن کا کہنا ہے کہ الاخوان تنظیم نے اقتدار کے خسارے اور سرگرمیوں پر پابندی کے بیچ اس ملاقات کو القدس فورس کی سپورٹ کے حصول کے لیے ایک قیمتی موقع جانا۔

اس ملاقات کے حوالے سے سیاسی نکتہ یہ ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس کی وزارت نے اپنا ایک جاسوس چھوڑ دیا جو القدس فورس کا حریف شمار کیا گیا۔ دستاویز کے مطابق مذکورہ جاسوس اس ملاقات میں موجود نہیں تھا بلکہ بنیادی طور پر اس نے ہی اس اجلاس کا انتظام کیا۔

دستاویز کے مطابق ترکی کو اس ملاقات کے حوالے سے وہم پڑ گیا تھا لہذا اس نے القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو اس میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔

سلیمانی کے ایک معاون نے اُس کے بدلے اجلاس میں شرکت کی۔ یہ شخص "ابو حسين" کی عُرفیت سے جانا جاتا ہے۔ ملاقات میں الاخوان کے تین جلا وطن رہ نما موجود تھے۔ ان کے نام ابراہیم منیر مصطفی، محمود الابیاری اور یوسف مصطفی ہیں۔

ان میں الاخوان تنظیم کے نائب مرشد عام ابراہیم منیر نے پیر کے روز ایک اخباری انٹرویو میں تنظیم کے رہ نماؤں اور ایرانی ذمے داران کے درمیان ملاقات کے حوالے سے امریکی جریدے The Intercept کی رپورٹ کی تائید کی۔

منیر کا کہنا ہے کہ "ہم کسی ایسے وفد کو مسترد نہیں کرتے جو ہم سے ملاقات اور بات چیت کا خواہش مند ہو۔ اس ملاقات کا مقصد بعض امور میں نقطہ ہائے نظر کے اتفاق یا اختلاف کو سننا ہوتا ہے۔ یہ ملاقات ایک موقع تھا کہ ہم خطے کی بالخصوص شام ، عراق اور یمن کی صورت حال کے حوالے سے ایرانی ذمے داران کے سامنے اپنا نقطہ نظر واضح کریں۔ اس لیے کہ ایران کا ان ممالک میں اثر و نفوذ ہے۔ ایران ہماری تنظیم اور اس کے مواقف کا احترام کرتا ہے"۔

منیر نے ایرانی ذمے داران کے ساتھ ملاقات میں یوسف مصطفی کی شرکت کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں اُن کے ساتھ الاخوان کے رہ نما محمود الابیاری تھے۔

امریکی جریدے کی دستاویزات کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس کی وزارت کے ایک ماہر نے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ نقطہ ہائے نظر میں اختلافات کے باوجود فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ سعودی عرب کو ایران اور الاخوان المسلمین کا مشترکہ دشمن شمار کر کے اس کا مقابلہ کیا جائے۔

اس ملاقات میں اور دیگر مواقع پر ایرانی وزارت انٹیلی جنس کی پاسداران انقلاب کے ساتھ مسابقت نے ایک بار پھر سے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے زیر انتظام ایسی متوازی انتظامیہ کی تشکیل پر روشنی ڈالی جو ایرانی حکومت کے عملی کردار کی حریف کے طور پر سامنے آئی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف دو مرتبہ اس بات پر احتجاجا مستعفی ہو چکے ہیں کہ حکومت کے متوازی ادارے مثلا پاسداران انقلاب اور خامنہ ای کے مقرب ادارے ،،، اُن کے کردار اور مقام کو کمزور کر کے اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے متوازی سب سے اہم ادارہ القدس فورس ہے۔ یہ ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کا ذمے دار ونگ ہے۔ یہ بنیادی طور پر خطے اور دنیا بھر میں ایران کی عسکری، سیکورٹی اور سیاسی مداخلتوں کے معاملات چلاتا ہے۔ القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آشیرباد سے ان معاملات میں فیصلہ کرنے کے قطعی اختیارات حاصل ہیں۔

اس کے علاوہ ایرانی وزارت خارجہ کے متوازی کردار ادا کرنے والا دوسرا ادارہ "خارجہ تعلقات کونسل" ہے۔ علی خامنہ ای نے یہ کونسل 2006 میں بنائی تھی اور اس کی سربراہی سابق وزیر خارجہ کمال خرازی کے پاس ہے۔

ایرانی قومی سلامتی کی سپریم کونسل بھی خارجہ پالیسی پر عمل درامد کے سلسلے میں ایک بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ بالخصوص روس کے ساتھ تعلقات ، اس سے ہتھیاروں کی خریداری اور شام میں روس کے ساتھ تعاون استوار کرنے کے حوالے سے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای اسی کونسل پر انحصار کرتے ہیں۔