.

شام کے سرحدی شہر تل ابیض میں کاربم دھماکا، 10 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سرحدی شہر تل ابیض میں ہفتے کے روز کار بم دھماکے میں دس افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔ اس سرحدی شہر پر ترکی کی فوج کا کنٹرول ہے۔

اطلاعات کے مطابق بم دھماکے میں زخمیوں کو شہر کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس کے پیش نظر ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے خدشے کا اظہار کیا گیا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے اطلاع دی ہے کہ الرقہ سے شمال میں واقع قصبے عین عیسیٰ میں آج ترک فوج نے ایک حملہ بھی کیا ہے۔ الرقہ کے شمال میں واقع علاقوں پراس وقت شامی فوج کا کنٹرول ہے اور وہاں گذشتہ چند روز کے دوران میں نو بم دھماکے ہوچکے ہیں۔

شام کے شمال مشرقی علاقوں میں کرد ملیشیا کے زیر قیادت خودمختار انتظامیہ نے فیس بُک پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کی فورسز اور اس کے اتحادی شامی باغی گروپوں نے جنگ بندی سمجھوتے کی خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور وہ مزید علاقوں پر قبضے کررہے ہیں۔

اس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عینِ عیسیٰ پر ترک فوج کے حملے کے بعد ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور وہاں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے مگر ترک صدر رجب طیب ایردوآن شامی مہاجرین کے پتے کو سیاسی سودے بازی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

اس نے بیان میں یورپی یونین اور دوسرے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف کی وضاحت کریں اور ترکی کے خلاف پابندیاں عاید کریں۔

واضح رہے کہ ترکی اور اس کے اتحادی شامی گروپوں نے تین فوجی کارروائیوں کے بعد جنگ زدہ ملک کے شمال مشرقی سرحدی علاقےمیں تل ابیض سمیت متعدد شہروں اور قصبوں پر قبضہ کررکھا ہے۔

ترکی کی فوج نے 2016، 2018اور 2019ء میں تین مرتبہ شام کے شمال مشرقی اور شمال مغربی سرحدی علاقے میں کرد ملیشیا وائی پی جی کے خلاف کارروائی کی ہے۔اس نے حالیہ کارروائی اکتوبر میں کی تھی اور پانچ روز کے بعد کرد ملیشیا اور ترک فوج کے درمیان جنگ بندی ہوگئی تھی۔ترکی کی اس فوجی دراندازی کا مقصد شام کے سرحدی علاقے میں ایک محفوظ زون کا قیام ہے۔