.

مائیک پینس کی کردوں کو حمایت کی یقین دہانی، عراقی وزیراعظم سےمظاہروں پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نائب صدر مائیک پینس نے عراقی کردوں کو اپنے ملک کی جانب سے حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ امریکا عراق بھر میں ایران کا تخریبی کردار نہیں چاہتا ہے۔

انھوں نے عراق کے خودمختار علاقے کردستان کے صدر نوشیرواں بارزانی سے علاقائی دارالحکومت اربیل میں ملاقات کی ہے اور ان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عراق ، شام اور خطے بھر کے کردوں کے لیے حمایت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔اس حوالے سے کرد ریجن کی قیادت میں کوئی الجھاؤ نہیں پایا جاتا ہے۔

مائیک پینس ایک فوجی مال بردار طیارے پر اپنے پہلے غیرعلانیہ مختصر دورے پر جمعرات کو عراق پہنچے تھے۔وہ پہلے بغداد کے شمال مغرب میں واقع الاسد ائیربیس پر اترے جہاں سے انھوں نے عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی سے ٹیلی فون پر ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

مائیک پینس نے بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ہم نے عراق میں حالیہ ہفتوں کے دوران میں ہونے والی بد امنی کے بارے میں گفتگو کی ہے۔انھوں (عراقی وزیر اعظم) نے مجھے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مظاہرین پر تشدد یا جبر کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے کام کررہے ہیں۔‘‘

’’انھوں نے مجھے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پُرامن مظاہرین کے تحفظ اور احترام کے لیے کام کریں گے۔یہ مظاہرے بھی عراق میں جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔‘‘انھوں نے مزید کہا۔

مائیک پینس نے صدر ٹرمپ کے ایک آزاد اور خود مختار عراق کے لیے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ ہمیں ایران کے عراق پر بڑھتے ہوئے تخریبی اثر ورسوخ پر تشویش لاحق رہے گی۔

نائب صدر مائیک پینس اور ان کی اہلیہ کیرن نے الاسد ائیربیس پر امریکی فوجیوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ کھانا کھایا۔ان کا بہ طور نائب صدر عراق کا یہ پہلا دورہ ہے۔ وہ اس دورے میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بغداد نہیں گئے ہیں۔وہاں ہزاروں عراقی اپنی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

عراق میں یکم اکتوبر سے جاری حکومت مخالف پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور جھڑپوں میں 341 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گذشتہ سوموار کو یہ دھمکی دی تھی کہ جو کوئی بھی عراقی اہلکار مظاہرین کے خلاف تشدد کے واقعات یا بدعنوانیوں میں ملوّث پایا گیا تو اس کے خلاف پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔