.

بلوائیوں کو امریکا کی سپورٹ حاصل ہے : ایرانی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک میں ہنگامہ آرائی پھیلانے والے بلوائیوں کو امریکا کی پشت پناہی حاصل ہے۔

پیر کے روز ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے کہا کہ ملک میں حالیہ واقعات (ان کا اشارہ عوامی احتجاجی مظاہروں کی جانب تھا) غیر ملکی مداخلت کا نتیجہ تھے۔

ایک ایرانی ٹی وی چینل کے مطابق موسوی نے مزید کہا " ہم بلوائیوں کے لیے امریکا کی سپورٹ کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت شمار کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایران کے حالیہ احتجاجی مظاہروں میں مداخلت کرنے والے بیرونی ممالک کو واقعات کا ذمے دار ٹھہرایا جانا چاہیے"۔

یاد رہے کہ ایرانی پارلیمنٹ میں آزاد ارکان کے بلاک کے سربراہ غلام علی جعفر زادہ نے بھی اتوار کے روز امریکا کو ملامت کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں انٹرنیٹ سروس منقطع ہونے کا سبب امریکی مداخلت ہے۔

ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے ملک بھر میں پھیلے ہوئے عوامی احتجاج کو ایک جنگ اور بڑی سازش قرار دیا ہے۔ مہر خبر رساں ایجنسی کے مطابق اتوار کے روز پاسداران کے نائب سربراہ علی فدوی نے ایک بیان میں کہا کہ "یہ ہنگامہ آرائی ایک بڑی سازش تھی جس پر 48 گھنٹوں میں قابو پا لیا گیا۔ سازش میں ملوث تمام دشمنوں کو یقین تھا کہ وہ کامیاب ہو جائیں گے"۔

واضح رہے کہ جمعہ 15 نومبر کو ایران کے زیادہ تر صوبوں میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کا آغاز ہوا تھا۔ ایرانی حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں کم از کم 50 فی صد اضافے کے فیصلے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ 5 روزے سے زیادہ جاری رہا۔ اس دوران احتجاج کا دائرہ سو کے قریب شہروں اور قصبوں تک پھیل گیا۔ بعد ازاں جلد ہی مظاہرین کا بنیادی مطالبہ سینئر حکومتی عہدے داران کی سبک دوشی کے مطالبے میں بدل گیا۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سیکورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں درجنوں مظاہرین ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب بیرون ملک ایرانی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد 300 سے زیادہ اور زخمیوں کی تعداد 4000 سے زیادہ ہے۔ ان کے علاوہ 10 ہزار افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

ایران میں انسانی حقوق کے مرکز (جس کا ہیڈکوارٹر نیویارک میں ہے) نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار اور رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کریک ڈاؤن کے دوران کم از کم 2755 افراد کو گرفتار کیا گیا ،،، اور حقیقی تعداد غالبا چار ہزار کے قریب ہو سکتی ہے۔