.

ترک فوجیوں کی فائرنگ سے شامی پناہ گزین ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے'سیرین آبزر ویٹری' کے مطابق ترک فوجیوں نے اتوار کے روز ادلب صوبے کے ایک شامی مہاجر کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شامی شہری اپنے علاقے میں جاری جنگ سے جان بچا کر ترکی داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ادلب دیہی علاقوں کے گاؤں مغر الحنطہ سے تعلق رکھنے والا ایک شامی شہری اسکندرو بریگیڈ کی سرحد پر واقع سرحدی علاقے حارم سے ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران ترکی فوجیوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگیا۔

50 ہزار شامی پناہ گزینوں کی واپسی

15 نومبر کو ترکی نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مہم شروع کرنے اور شامی پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ 6 ہزار شامیوں سمیت 50 ہزار پناہ گزینوں کواستنبول سے نکالا گیا ہے۔

ترکی میں حالیہ برسوں میں شامی مہاجرین کی مایوسی اور پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ترکی میں شامی مہاجرین کے بارے میں اپنے سابقہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "انہیں شمالی شام منتقل کردیا جائے گا۔"

پچھلے مہینے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے یہ خبر شائع کی تھی کہ ترکی شامی مہاجرین کو زبردستی شمالی شام بھیج رہا ہے۔