.

حوثی ملیشیا سے واجب الادا تنخواہوں کا مطالبہ کرنے والے درجنوں سرکاری ملازمین گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی ملیشیا کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاجروں ، گھروں اور جائیدادوں کے مالکان اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگی اجیرن کرنے کے بعد ایک بار پھر سرکاری ملازمین کی شامت آ گئی ہے۔

اتوار کے روز مقامی میڈیا نے بتایا ہے کہ صنعاء میں جو سرکاری ملازم اپنے قانونی حقوق کا مطالبہ کرتا ہے حوثی ملیشیا اس کو گرفتار کر لیتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حوثی ملیشیا اور اس کے زیر کنٹرول ریاستی اداروں میں ملیشیا کے ہمنوا عناصر نے درجنوں سرکاری ملازمین کے خلاف رپورٹ درج کرائی۔ اپنی تنخواہیں طلب کرنے والے ان ملازمین کو حالیہ عرصے کے دوران گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ مذکورہ سرکاری ملازمین نے حوثی ملیشیا کے مقرر کردہ ذمے داران سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کی 4 سال سے روکی گئی تنخواہیں ادا کر دی جائیں۔ اس پر ان ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر کے خفیہ جیلوں میں ڈال دیا گیا۔

ان سرکاری ملازمین کو گرفتار کرنے سے قبل اُن پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ دیگر ملازمین کو حوثی ملیشیا کے خلاف مزاحمت پر اکسا رہے ہیں۔