.

سعودی بچہ جس نے ہم جماعتوں کی حوصلہ افزائی سے اپنی معذوری کو پچھاڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی شہر الدمام کے ایک اسکول میں دوسری جماعت کا طالب علم مُتعب عبداللہ الدوسری پیدا ہوا تو آکسیجن کی کمی کے سبب پٹھوں کی کمزوری میں مبتلا تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ بچہ عدم توازن کا شکار ہو گیا اور مخصوص آلے کی مدد کے بغیر قدرتی چال سے محروم رہا۔ تاہم اسکول میں مُتعب کے دوستوں اور ساتھیوں نے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی یہاں تک کہ متعب کسی کی مدد کا سہارا لیے بغیر ہی اپنے قدم اٹھانے میں کامیاب ہو گیا۔

متعب اپنی 5 بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے۔ اس کی والدہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے بیٹے کا قصہ اس طرح بیان کیا " میں اُس وقت حیران رہ گئی جب اسکول کی نگراں نے مجھے بلا کر یہ بتایا کہ مُتعب اپنے ساتھیوں اور معلّمات کی حوصلہ افزائی کے سبب کسی آلے کے بغیر ہی چلنے پر قادر ہو گیا ہے"۔

والدہ نے مزید بتایا کہ "میں روزانہ اپنے بیٹے کے ساتھ اسکول جاتی ہوں اور میں نے اس کی شخصیت اور نفسیات میں مثبت تبدیلیاں نوٹ کی ہیں۔ میں نے ایک وڈیو کلپ بھی بنایا ہے تا کہ بچوں اور ٹیچر کی حوصلہ افزائی کے گراں قدر مثبت اثرات کو ثابت کر سکوں"۔

متعب کی والدہ کے مطابق وہ مُتعب کی ٹیچر اور اُن بچوں کا شکریہ ادا کرنے سے قاصر ہیں جنہوں نے اُن کے بیٹے کی شخصیت پروان چڑھانے میں ایک بڑا کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں متعب کے اندر خود اعتمادی میں اضافہ ہوا اور اب وہ اپنے دوستوں کی طرح چلنے کی کوشش کرتا ہے اور کامیابی کے حصول کے لیے پُرجوش ہو چکا ہے۔