.

سعودی عرب میں 6 بے مثال سیاحتی مقامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں آثار قدیمہ اور قدرتی مناظر سے بھرپور متعدد مقامات ہیں جن کو کسی انسان نے چھوا بھی نہیں۔ بلومبرگ ویب سائٹ نے مملکت کے چھ ایسے مرکزی مقامات پر روشنی ڈالی ہے جن کی نظیر کم ہی ملتی ہے اور سیاح یہاں کا رخ کر سکتے ہیں۔

العلا شہر

سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع یہ علاقہ مملکت کا مشہور ترین سیاحتی مقام شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں بہت سے حیران کر دینے والے مقامات ہیں جن میں مدائنِ صالح شامل ہے۔ یہاں چٹانوں پر نقش تصاویر اور نبطیوں کی مملکت کے 2000 سال پرانے قبرستان بھی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ علاقہ 2020 کے اواخر تک بند کر دیا گیا ہے تا کہ اسے زیادہ بڑی تعداد میں سیاحوں کے استقبال کے لیے تیار کیا جا سکے۔ البتہ آئندہ ماہ دسمبر سے مارچ 2020 تک موسم سرما کے طنطورہ فیسٹول کی سرگرمیوں کے دوران اس علاقے کا دورہ کیا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب کے جزائرِ مالدیپ

سعودی عرب میں قدرتی جزیروں پر مشتمل ایک مجموعہ ہے جو "املج" اور "الوجہ" شہروں کے نزدیک واقع ہیں۔ سیاحت کے سلسلے میں بحر احمر منصوبے کے حوالے سے یہ جزیرے بھی جزوری طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ یہاں فیروزی رنگت کے شفاف پانی سے لطف اندوز ہونے کے لیے علاقے کی مقامی آبادی کی مدد سے جزائر مالدیپ کے سعودی ورژن کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ موسم سرما میں آپ کو یہاں ڈولفن مچھلیاں بھی نظر آئیں گی۔

عسیر کے پہاڑ

دارالحکومت ریاض سے دور سیاحوں کے لیے سرسبز اراضی سے لطف اندوز ہونا بھی ممکن ہے۔ عسیر کے پہاڑوں کے گرد یہ سبزہ آنے والوں کی آنکھوں کے لیے دل نشیں مناظر پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر دل چسپ سرگرمیوں میں یہاں کے پہاڑوں پر چڑھنا اور "رجال المع" کے تاریخی حیثیت کے حامل ضلع کا دورہ کرنا شامل ہے۔

حافۃ العالم کی ڈھلان

دارالحکومت ریاض میں متعدد سیاحتی مقامات ہیں جن کو دورہ کیا جا سکتا ہے۔ ان میں طیبہ اور الزل کے روایتی بازاروں کے علاوہ دیرہ کا تاریخی علاقہ شامل ہے۔ یہ علاقہ آل سعود خاندان کی حکمرانی کا علاقہ تھا۔ تاہم ان سب سے ما وراء ریاض میں دیگر علاقے بھی ہیں جو سیاحت کے مستحق ہیں۔ ان میں دارالحکومت سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع علاقہ منحدر العالم نمایاں ترین ہے۔ تعطیلات میں مقامی لوگ اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔ مںحدر العالم ایک پہاڑ پر واقع ہے اور وہاں سے نیچے وادی کا حسین اور دل کش قدرتی منظر انسان کی طبیعت میں عجیب سا سرور پیدا کر دیتا ہے۔ دیکھنے والوں کو ایسا لگتا ہے کہ اس منظر کی کوئی حد نہیں ہے۔ اسی واسطے اس مقام کو (منحدر نہایۃ العالم) کا نام دیا گیا۔

مستقبل کی سرزمین

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمانایک نئے شہر "نیوم" کو بسانے کے ذریعے مملکت کے شمال مغربی علاقے کو نئے مستقبل کی سرزمین میں بدلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس مقصد کے لیے 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری مختص کی گئی ہے۔ تبوک صوبے کے زیر انتظام یہ علاقہ قدرتی مناظر سے بھرپور ہے جو مملکت میں مقیم افراد کے لیے کشش کا سبب بنتے ہیں۔ یہاں "طيب اسم" کے نام سے ایک تنگ راستہ بھی ہے جہاں نادر و نایاب نوعیت کی قطع اراضی اکٹھا ہو گئی ہے۔ دو جانب سے اسے پہاڑوں نے گھیرا ہوا ہے اور اس کے بیچ پانی کے چشمے ہیں۔ محققین کے نزدیک یہ وہ مقام ہے جہاں موسی علیہ السلام نے فرعون سے بچنے کے لیے اپنی قوم کے ساتھ سمندر عبور کیا تھا۔

الاحساء کا ںخلستان

سعودی عرب کے مشرق میں واقع الاحساء کا نخلستان مملکت کا سب سے بڑا نخلستان ہے۔ دارالحکومت ریاض سے ٹرین یا فضائی سفر کے راستے یہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ الاحساء ضلع میں شہری علاقہ الہفوف شہر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں آنے والے افراد بہت سے خوب صورت علاقوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان میں القارہ پہاڑ کے غار جو موسم گرما میں ٹھنڈے رہتے ہیں اور القیصریہ کا تاریخی بازار شامل ہے۔