.

کباڑ خانے میں پڑی گاڑی نے سعودی شہری کو کروڑ پتی بنا دیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک شہری پر قسمت کی دیوی اس وقت مہربان ہوئی جب امریکی نیلام گھر میں آگ سے بھسم شدہ اس کی ایک پرانے ماڈل کی کار کی بولی 30 لاکھ ریال لگی۔

تفصیلات کے مطابق آگ لگنے سے گاڑی کے برباد ہونے پر سعودی شہری نے طے کرلیا تھا کہ اسے پرانی گاڑیوں کے کباڑ خانے (مرکز التشلیح) کے حوالے کر کے اس سے چھٹکارا حاصل کر لے گا۔ واضح رہے کہ التشلیح سعودی عرب میں اس کباڑ خانے کو کہتے ہیں جہاں ناکارہ گاڑیاں تول کر فروخت کی جاتی ہیں۔ خریدار قابل استعمال پرزے اور دیگر سامان نکال کر فروخت کرتے ہیں۔

بعد ازاں سعودی شہری نے گاڑی کو التشلیح کے حوالے کرنے کے کا ارادہ ترک کر کے اسے امریکا کے بین الاقوامی نیلام گھر میں نیلامی کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ نیلامی کے دوران اسے احساس ہوا کہ آگ سے برباد ہونے والی گاڑی کتنی قیمتی اور نایاب ترین گاڑیوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر میں اس ماڈل کی صرف 34 گاڑیاں موجود ہیں۔

امریکی کارساز کمپنی نے 1961 میں یہ گاڑی بنیادی طور پر کمپنی کے ایک بڑے صارف کے لیے تیار کی تھی۔ اس میں ریسنگ کار کا انجن لگا ہوا ہے۔

یہ گاڑی اب ایک دوسرے سعودی شہری کی ملکیت ہے اور اسے ان دنوں دارالحکومت میں ریاض سیزن کے موٹر شو میں ر کھا گیا ہے۔ نایاب گاڑیوں کے شائقین اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ گاڑی کے موجودہ سعودی مالک نے اسے امریکی نیلام گھر سے 30 لاکھ ر یال میں خریدا ہے۔ آگ سے گاڑی کو بھاری نقصان پہنچا تھا۔ موٹر کا بکس جلا ہوا ہے اور رنگ بھی جگہ جگہ سے اڑ گیا ہے۔

تباہ شدہ کار کو اب کمپنی کی فیکٹری میں واپس لے جا کر اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس گاڑی کے ایک حصے میں ’تالفہ‘ درج ہے، جس کے معنی ہیں کہ یہ گاڑی ناکارہ ہوچکی ہے۔