.

یمن : الحدیدہ میں حوثیوں کے ہتھیاروں کے گودام میں دھماکا ، متعدد عسکری گاڑیاں تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں اتوار کے روز الحدیدہ صوبے میں ہتھیاروں کے ایک گودام میں زور دار دھماکے کے نتیجے میں حوثی ملیشیا کے متعدد ارکان زخمی ہو گئے اور ملیشیا کے زیر استعمال کئی فوجی گاڑیاں جل کر تباہ ہو گئیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ دھماکا بیت الفقیہ ضلع میں ہوا جس سے علاقے کے مکینوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

ادھر یمنی وزارت خارجہ نے حوثی ملیشیا کی جانب سے الحدیدہ معاہدے پر عمل درامد میں شریک نئی صف بندی کی نگراں رابطہ کار کمیٹی میں حکومتی ٹیم کی قیام گاہ کو نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

قیام گاہ کو 8 حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں 5 ڈرون طیاروں کے ذریعے اور 3 بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے کیے گئے۔

اتوار کے روز جاری ایک بیان میں یمنی وزارت خارجہ نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کی بریفنگ کے ایک روز بعد حوثیوں کی یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ باغی ملیشیا اسٹاک ہوم سمجھوتہ طے پانے کے تقریبا ایک برس بعد بھی اس پر عمل درامد کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ خطرناک پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثی ملیشیا الحدیدہ میں خندقیں اور سرنگیں کھودنے میں مصروف ہے۔ یہ اقدام ایک صریح خلاف ورزی ہے جو اسٹاک ہوم معاہدے کی بساط الٹنے کے لیے باغیوں کی بد نیتی اور ان کی منصوبہ بندی کا پتہ دے رہی ہے۔

یمنی وزارت خارجہ نے ان خلاف ورزیوں کی تمام تر ذمے داری حوثی ملیشیا پر عائد کی ہے جن سے الحدیدہ معاہدے کے سبوتاژ ہونے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ ، اس کے متعلقہ اداروں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جارحیت کی پر زور مذمت کریں۔