.

دفتروں میں دوستوں کی ’پراکسی‘ لگانے والے خبردار، حرمت کا فتویٰ آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں سینئر علماء کی کمیٹی کے رکن اور شاہی دیوان کے مشیر شیخ ڈاکٹر سعد بن ناصر الشثری نے دفتر یا کام کی جگہ پر تاخیر سے آنے والے ساتھی کے لیے دستخط کرنے کے عمل سے خبردار کیا ہے۔

شیخ الشثری نے اس حوالے سے فتوی دیتے ہوئے کہا کہ "یہ ایک حرام فعل ہے اور ایک قسم کا دھوکا اور جھوٹ ہے"۔ اس سلسلے میں انہوں نے ہدایت کی کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کام پر پہنچنے میں جلدی کرے اور اس حوالے سے اللہ سے مدد طلب کرے ،،، اپنے ساتھیوں کے ذریعے دستخط کروا کر انہیں تنگی میں نہ ڈالے۔ شیخ کے مطابق بہت سے لوگ ایسے امور میں مشغول رہتے ہیں جن میں ان کے لیے دنیا یا آخرت کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا.. اور پھر اللہ کی طرف سے واجب کردہ فرائض کو چھوڑ کر ان میں تاخیر کے مرتکب ہوتے ہیں!

شیخ الشثری کا یہ موقف "الرسالہ" ٹی وی چینل کے معروف پروگرام "يستفتونك" میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سامنے آیا۔ سوال میں ایک شخص نے فون کال پر یہ پوچھا تھا کہ بعض مرتبہ وہ اپنی ڈیوٹی پر تاخیر سے پہنچتا ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنے کسی دوست یا ساتھی سے کہہ دیتا ہے کہ وہ اس کی طرف سے دستخط کر دے ... آیا یہ فعل صحیح ہے ؟