.

جرمن حکومت حزب اللہ کی سرگرمیوں پرپابندی لگانے کی راہ پرگامزن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جُمعرات کے روز جرمن جریدے "ڈیر اسپیگل" نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ برلن حکومت لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ ملیشیا کی سرگرمیوں پر پابندی کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔

میگزین نے مزید کہا کہ جرمنی کے حکام اگلے ہفتے حزب اللہ کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ اس پابندی کا مطلب جرمنی میں حزب اللہ کے جھنڈے لہرنے پر پابندی عاید کرنا ہے۔ پابدی عاید ہونے کے بعد جرمنی میں حزب اللہ ملیشیا کے عناصر سے 'داعش' اور کردستان ورکرز پارٹی کے شدت پسندوں کی طرح نمٹا جائے گا۔

میگزین نے تصدیق کی ہے کہ جرمنی کی وزارت داخلہ نے اٹارنی جنرل کو ملک میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کی تحقیقات شروع کرنے کا حق دیا ہے۔

جرمنی جہاں 1960 کے بعد سے دسیوں ہزار لبنانی (زیادہ تر شیعہ) آباد ہیں میں ایک بڑی تعداد حزب اللہ کے سرگرم کارکنوں پر مشتمل ہے۔ یوں جرمنی یورپ کا شیعہ آبادی والا سب سے بڑا ملک ہے۔

سب سے زیادہ آبادی والے شمالی رائن ویسٹ فیلیا میں ریاستی خفیہ ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے کارکنوں کی تعداد 2017 میں 105 سے بڑھ کر 2018 میں ریاست میں 110 ہوگئی تھی۔

جرمن انٹلی جنس کی رپورٹ کے مطابق مونسٹر شہر میں واقع "امام مہدی سنٹر" ریاست میں حزب اللہ کے حامیوں کے ساتھ ساتھ بوٹروپ ، ڈارٹمنڈ اور بیڈ اوین ہاؤزین شہروں میں موجود حزب اللہ عناصرکے لیے رابطہ مرکز بن چکا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ جرمنی میں حزب اللہ کے ارکان کی تعداد950 بتائی گئی ہے۔ جبکہ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے عناصر اور حامیوں کی تعداد 2017 میں 950 سے بڑھ کر سنہ 2018ء میں 1050 ہوگئی ہے۔

العربیہ نے خلیج عرب کے شمال مشرقی کونے میں واقع ایرانی جزیرے خارگ سے خام تیل کے پھیلنے کی تصاویر حاصل کیں۔