سعودی عرب: قدیم گاؤں کے مکان جو مکینوں سے خالی ہوگئے:تصاویر

اصفہ مکینوں کے انخلا کے باوجود سیاحوں کے لیے پرکشش مقام ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع جبل عال کی چوٹی پر ایک قدیم گاؤں میں بنے مکانات آج بھی وہاں کے طرز بودو باش کی یاد تازہ کرتے ہیں۔'اصفہ' نامی یہ گاؤں ٹھنڈے میٹھے اور تازہ پانی، سبزیوں، پھلوں، چٹانوں او پہاڑوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ اصفہ کسی دور میں ایک آباد گاؤں تھا مگر اب وہاں صرف بوسیدہ اور کچے مکانات رہ گئے ہیں۔

اصفہ کے بارے میں ایک مقامی شہری حسن مسفر المالکی نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ گاؤں بنی مالک الحجاز کی بستیوں میں سے ایک ہے۔ یہ علاقہ میسان گورنری کے تحت آتا ہے جو طائف سے جنوب میں 170 کلو میٹر دور واقع ہے۔ اس گاؤں کی تاریخ 500 سال پرانی ہے۔ اس کے جنوب مغرب میں جبل بثرہ واقع ہے جو کوہ السروات کی دوسری بلند ترین چوٹی تصور کی جاتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں المالکی نے بتایا کہ 'اصفہ' کے پہاڑوں سے سال بھر تازہ پانی جاری رہتا ہے۔ یہاں پر کئی اقسام کے پھل اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ ان میں انگور، کشمش، اناردیگر پھل شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اصفہ کے باشندوں کی تعداد 2000 تھی جوسب کے سب قریبی شہروں میں چلے گئے ہیں اور ان کے پرانے اور بوسیدہ مکانوں کے صرف کھنڈرات بچے ہیں۔ اگرچہ یہاں پراب آبادی نہیں رہی مگریہ جگہ سیاحوں اور فطرت کے دلدادہ لوگوں کےلیے غیرمعمولی کشش رکھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں