.

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانیوں کی 77 صفحات پر مشتمل فردِ جُرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے اٹارنی جنرل نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف سرکاری طور پر فردِ جرم پیش کردی ہے اور انھیں اس کے خلاف اپیل اور مقدمے سے استثنا کے لیے تیس دن کا وقت دیا ہے۔

77صفحات کو محیط یہ فردِ جرم سوموار کے روز جاری کی گئی ہے۔اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف بدعنوانی کے تین مختلف کیسوں میں رشوت خوری ، فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات میں فردِ جرم عاید کی گئی ہے۔

اسرائیل کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک کرسی نشین وزیراعظم کو بدعنوانیوں کے الزامات میں ماخوذ کیا گیا ہے اور اس کے خلاف کسی جرم پر فرد جرم عاید کی گئی ہے۔
اس سال اپریل اور ستمبر میں دو مرتبہ پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے باوجود نیتن یاہو اور ان کے سیاسی حریفوں میں سے کوئی بھی نئی حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔ سیاسی ابتری کی اس صورت حال میں اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ نیتن یاہو اپنے خلاف مقدمے کی عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے پارلیمانی استثنا حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

فردجُرم کے مطابق نیتن یاہو کے خلاف مقبوضہ بیت المقدس ( یروشلیم) کی ایک ضلعی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔اس میں 333 گواہوں کے نام شامل ہیں اور اٹارنی جنرل انھیں مقدمے کی سماعت کے دوران میں شہادتوں کے لیے عدالت میں طلب کرسکتا ہے۔

نیتن یاہو کسی غلط روی سے انکاری ہیں اور وہ وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کے لیے مطالبات کو مسترد کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں اسرائیل میں نظم ونسق کی نگرانی کے لیے کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم نے عدالتِ عظمیٰ میں وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف ایک درخواست دائر کی تھی اور اس میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ نیتن یاہو کو وزارتِ عظمیٰ سے دستبردار ہونے کا حکم دے۔

''تحریک برائے معیاری حکومت'' نے عدالتِ عظمیٰ میں دائر کردہ اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایک برسراقتدار وزیراعظم کے خلاف فوجداری الزامات میں پہلی مرتبہ فرد جرم عاید کی گئی ہے۔اس سے سرخ لکیر عبور ہوچکی اورسرکاری اداروں پرعوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔

نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ میں جولائی میں سب سے زیادہ عرصہ برسراقتدار رہنے والے وزیراعظم بن گئے تھے۔ ان سے قبل ڈیوڈ بن گوریان طویل عرصہ صہیونی ریاست کے وزیراعظم رہے تھے۔نیتن یاہو مسلسل چوتھی مدت کے لیے بھی امیدوار بنے ہیں لیکن ان کی امید بر آتی نظر نہیں آرہی ہے۔اسرائیل میں 17 ستمبر کو چھے ماہ سے بھی کم مدت میں دوبارہ پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے تھے لیکن ان میں کوئی بھی جماعت حکومت کی تشکیل کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔

نیتن یاہو مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے دوسری جماعتوں کی حمایت بھی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ان کے مد مقابل سابق آرمی چیف بینی گانز بھی مطلوبہ اکثریت دکھانے میں ناکام رہے ہیں اور اب اگر اسرائیلی صدر کے دیے گئے اکیس دن کے عرصے میں کوئی بھی جماعت نئی حکومت بنانے میں ناکام رہتی ہے تو پھر اسرائیل میں ایک سال سے بھی کم مدت میں تیسری مرتبہ پارلیمانی انتخابات منعقد ہوں گے۔