.

سعودی عرب 'السدو' کے کاری گر ھلیل الحارثی سے ملیے!

الحارثی نے یہ فن اپنی والدہ سے سیکھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں روایتی دست کاری کے ہنر سے اون سےتیار کردہ دھاگے اور دیگرجانوروں کے بالوں سے بنائے جانے والے تانے بانے کپڑوں کی صنعت دم توڑ رہی ہے۔ تاہم خال خال لوگ آج بھی ایسے موجود ہیں جو اس فن کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں اس فن کو'السدو' کہا جاتا ہے۔ یہ کاری گری جزیرۃ العرب کے بادیہ نشینوں اور دیہاتوں میں بسنے والوں کی خاص پہچان رہی ہے۔ ہاتھوں سے مختلف رنگوں کےلباس، اوڑھنے اور بچھونے کے کپڑے حتیٰ کہ خیمےتک تیار کیے جاتے رہے ہیں مگر اب یہ فن بہت پرانا ہوچکا ہے۔ تاہم کسی دور میں یہ فن ہرگھر کا حصہ ہوتا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک ایسے ہی عمر رسیدہ کاری گر سے ملاقات کی ہے جس نے آج بھی اس فن کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

'ھلیل الحارثی' اب کافی عمر رسیدہ ہوچکے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ میں نے پوری زندگی اسی کاری گری میں بتا دی۔ میں نے یہ کام اپنی ماں سے سیکھا۔ اس طرح گویا مجھے یہ پیشہ اپنی ماں سے ورثے میں ملا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کپڑوں کی دست کاری کے لیے بھیڑوں کی اون، بکریوں اوراونٹوں کے بال بھی استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الحارثی نے کہا کہ 'السدو' ایک ایسا پیشہ تھا جس سے مردو خواتین سب منسلک رہتے۔ کھڈی پر تیار ہونے والے کپڑوں کو دیدہ زیب بنانے کے لیے ان پر طرح طرح کے پھول بوٹے بنائے جاتے۔ قومی اہمیت کی حامل علامتیں تیار کی جاتیں۔ ہرقبیلہ اپنے اس فن میں اپنی خاص پہچان قائم کرنے کی کوشش کرتا۔ یوں کسی دور میں ہرطرف السدو کے چرچے تھے مگر آج کے لوگ اسے کم ہی جانتے ہیں۔ سالانہ میلوں ٹھیلوں اور دیگر تقریبات کے لیے بھی دست کاری کی مدد سے کپڑے تیار کیے جاتے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ السدو کی تیاری کئی مراحل میں ہوتی۔ بھیڑوں کی اون اتارنے کے بعد اسے تانا بانا بنایا جاتا۔ اس کام میں مرد اور خواتین دونوں گھروں میں جُت جاتے۔ میں ابھی بہت چھوٹا تھا جب میں نے اس فن میں دلچسپی لینا شروع کی۔ میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے میری ماں نے مجھے اس کے گر سکھائے۔

السدو نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرئے السدو کی تیاری کے مکمل طریقہ کار کی تفصیلات بتائیں اور بتایا کہ پرانے دور میں کون کون سے آلات ایسے تھے جن کی مدد سے السدو بنایا جاتا۔ اس نے بتایا کہ آج السدو کو صرف گھروں میں یادگار کے طور پررکھا جاتا ہے۔ ان کا تیار کردہ السدو کا ایک ٹکڑا 1000 ریال سے 20 ہزار ریال تک فروخت ہوتا ہے۔ قیمت میں کمی بیشی السدو کے کپڑے کے سائز، حجم اور اس کے معیار پر منحصر ہوتی ہے۔ بعض کپڑے ایک ہفتے میں مکمل ہوجاتے ہیں جب کہ کچھ کی تیاری میں ایک مہینا بھی لگ سکتا ہے۔