.

النجف کے قبائل کا مظاہرین کے قاتلوں کا ٹرائل، پارلیمنٹ تحلیل کرنےکا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شہر النجف کے قبائل نے ایک مشترکہ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران شہریوں کو قتل کرنے میں ملوث عناصر کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کرے۔ انہوں نے پارلیمنٹ تحلیل کرکے دوبارہ انتخابات کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق النجف کے قبائلی عمائدین نے سوموار کے روز ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ہمارا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ مظاہرین کے قاتلوں کو کٹہرے میں لایا جائے۔ اس کے بعد پارلیمنٹ تحلیل کرکےدوبارہ پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں۔

ادھر العربیہ چینل کے نامہ نگار کے مطابق عراق میں مختلف مقامات پر حکومت کے خلاف مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین نے الزیتون اور الخضارات پل بدستور بند کررکھے ہیں جب کہ ذی قار گونری کے شہر الناصریہ میں النصرپل اور ایک مرکزہ شاہراہ کو کھول دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق طبی امدادی اداروں کی ٹیمیں بھی ذی قار کے مختلف علاقوں میں مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والے افراد کے علاج کے لیے پہنچی ہیں۔

ذی قار میں مقامی قبائل نے جنوب مشرق اور شمالی سمت میں بیرونی سڑکوں کو سیکیورٹی فراہم کی ہے۔ ان علاقوں میں حالیہ ایام میں تشدد کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں۔

درایں اثناء ذی قار میں ایک اپیل عدالت نے مظاہروں کے دوران شہریوں کے قتل عام سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پرعینی شاہدین اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرائے گئے۔ بچ جانےوالے شہریوں نے بتایا کہ الناصریہ میں کریک ڈائون کےدوران درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

عراقی پارلیمنٹ کی دفاع و سیکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین محمد الحیدری نے ایک بیان میں کہا کہ اسپیکر نے ذی قار اور نجف میں حالیہ ہفتے کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

الحیدری کا کہنا تھا کہ ذی قار میں امن وامان کے حالات قابو میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم مظاہرین کو ہرممکن تحفظ فراہمکررہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ مظاہرین کی صفوں میں شرپسند گھس اپنے مذموم مقاصد حاصل نہ کریں۔