.

حماس اور اسلامی جہاد کے وفود کی قاہرہ آمد

دورے کا مقصد جنگ بندی اور قومی مصالحت کوآگے بڑھانا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیموں اسلامی جہاد اور اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' کے وفود فلسطینی دھڑوں میں مصالحتی عمل آگے بڑھانے اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کو مستحکم کرنے پر بات چیت کے لیے مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچے ہیں۔ اسلامی جہاد کے وفد کی قیادت زیاد النخالہ کررہے ہیں۔

فلسطین کے مقامی اور مصدقہ ذرائع سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ روز اسلامی جہاد کا وفد قاہرہ پہنچا جس کے بعد جلد ہی اسماعیل ھنیہ کی قیادت میں حماس کا ایک وفد بھی قاہرہ پہنچ رہا ہے۔ دونوں وفود مصری حکومت سے فلسطینی دھڑوں میں مصالحت اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کو مستحکم کرنے پر بات چیت کرے گا۔

خیال رہےکہ فلسطینی تنظیموں کی طرف سے یہ وفود ایک ایسے وقت میں قاہرہ پہنچے ہیں جب دو ہفتے قبل اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر تین دن تک مسلسل جارحیت مسلط کی تھی تاہم مصر کی مداخلت سے اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔ غزہ میں کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیلی فوج نے ایک فضائی حملے میں اسلامی جہاد کے ایک مقامی کمانڈر بہاء ابو العطاء کوبمباری کرکے اس کی اہلیہ سمیت قتل کردیا تھا۔ اسی روز اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق میں ایک فضائی حملے میں اسلامی جہاد کے دوسرے رہ نما اکرم العجوری کو بھی ہلاک کردیا تھا۔ تین دن تک غزہ کی پٹی پر جاری رہنے والے اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں میں تین درجن فلسطینی شہید اور ایک سو سے زاید زخمی ہوگئے تھے۔