.

خامنہ ای کے نظام کے سقوط کی تیاری ، رضا پہلوی کا عبوری حکومت کی تشکیل کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی نے زور دیا ہے کہ "اسلامی جمہوریہ کے حتمی سقوط" کی تیاری کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "عبوری عرصے کے دوران قیادت" اب ایرانیوں کے لیے انتہائی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔ انہوں نے ایک عبوری حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔

ایرانی ریڈیو فردا کے مطابق 59 سالہ پہلوی کا یہ موقف ان کے ایک تازہ بیان میں سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "دو سال سے بھی کم عرصہ گزرا ہے جب میں نے باور کرایا تھا کہ اسلامی جہوریہ ایران کا سقوط قریب ہے اور اس سے فرار ممکن نہیں۔ سیاسی نظام کا سقوط مستعد رہنے کا تقاضا کرتا ہے"۔

سابق شاہ ایران کے بیٹے کا کہنا ہے کہ "عبوری مرحلے کے دوران ملک کی قیادت کے لیے سیاسی اتھارٹی کی تشکیل کا آغاز اب کر دیا جانا چاہیے.. یہ سیاسی قیادت آخر کار ملک کو اس امر کے لیے تیار کرے گی کہ بیلٹ بکس کے ذریعے اقتدار ایک اسلامی حکومت سے قانونی، سیاسی اور اقتصادی طور پر ایک ایرانی حکومت کو منتقل کیا جائے"۔

رضا پہلوی نے اپنے بیان میں خاص طور پر سیاست دانوں، اساتذہ، فن کاروں، وکلاء، ایرانی فوجیوں اور مسلح افواج کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا کہ سیاسی اداروں کو اہلیت کے حامل سیاست دانوں کے حوالے کیے جانے کی ضرورت ہے۔

سال 2017-2018 اور نومبر 2019 میں ہونے والے عوامی مظاہروں کے دوران پہلوی خاندان اور اس کے اہم سرخیل رضا شاہ کو سراہے جانے کے حوالے سے نعرے سامنے آئے۔ ان نعروں سے ظاہر ہوا کہ لوگوں کی بڑی تعداد مذہبی عقیدے کے تسلط اور سماجی آزادی پر روک ٹوک کے بغیر ایک فعال حکومت اور ملک کی معیشت کو مستحکم دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔

اس امر نے اسلامی نظام کی قیادت کی نیندیں اڑا دی ہیں جو 41 برس بعد بھی پہلوی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ایرانی قیادت اس خاندان پر بدعنوانی کا الزام عائد کر کے اسے مغرب کے مفادت کے کام آنے والا خاندان قرار دیتی ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ملک میں عوامی احتجاج پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے 17 نومبر کو ایران کے سابق شاہی خاندان کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا تھا۔ خامنہ ای نے پہلوی خاندان کو "شرپسند اور خبیثت فطرت کا حامل" قرار دیتے ہوئے ان پر "ہنگامہ آرائی اور بلوے" اور "غنڈہ گردی" کی سپورٹ کا الزام عائد کیا۔

مبصرین کے مطابق ایرانی قیادت کی تقریروں میں تضاد ہے۔ اس کی مثال یہ کہ وہ خود کو عوام میں انتہائی مقبول اور بھرپور طاقت کا حامل ظاہر کرتی ہے ... اور جب ملک میں وسیع پیمانے پر لوگ احتجاجی مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تو قیادت نے جلا وطن قیادت پر لوگوں کو منظم کرنے کا الزام لگا دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکمراں نظام طاقت ور ہے اور اپوزیشن کو مقبولیت حاصل نہیں تو پھر وہ اتنے زیادہ لوگوں کو سڑکوں پر کیسے لے آئی ؟

رضا پہلوی نے 20 نومبر کو خامنہ ای کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات پر سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں تین گنا اضافے پر احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آنے والے مظاہرین کے خلاف خامنہ ای کے الزامات "بزدلانہ" امر ہے۔