.

سیکورٹی فورسز نے کئی شہروں میں "بلوائیوں" کو فائرنگ سے ہلاک کیا : ایرانی ٹیلی وژن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے منگل کے روز اس بات کا اقرار کیا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ایران میں حالیہ عوامی احتجاج کے دوران سیکورٹی فورسز نے کئی شہروں میں متعدد لوگوں کو فائرنگ کر کے موت کی نیند سلا دیا۔ ٹیلی وژن نے ہلاک شدگان کو ہنگامہ آرائی کرنے والے "بلوائی" قرار دیا۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ایران کا یہ اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی حکام کو مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں خون ریزی کی پالیسی اپنانے پر بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔ مذکورہ احتجاجی مظاہروں کا آغاز 15 نومبر کو ہوا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 208 ہو گئی۔ ان کے علاوہ سیکڑوں افراد زخمی ہوئے جب کہ ہزاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم ایران اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے اعلان کردہ اعداد و شمار کو مسترد کر چکا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں تقریبا 2 لاکھ افراد شریک ہوئے۔ ان میں سے بعض نے ملک میں سیکڑوں بینکوں، پولیس اسٹیشنوں اور ایندھن کے اسٹیشنوں پر دھاوا بھی بولا۔

تہران صوبے کے مغرب میں واقع ضلع قُدس کی حاکمہ لیلی واثقی یہ تسلیم کر چکی ہیں کہ انہوں نے ذاتی حیثیت سے پولیس کو حکم دیا تھا کہ حالیہ مظاہروں کے دوران احتجاج کرنے والوں پر گولی چلائی جائے۔ لیلی نے تصدیق کی ہے کہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں ایرانی پاسداران انقلاب سرگرم رہی۔

ایران میں حالیہ مظاہروں کا سلسلہ دو ہفتے قبل پٹرول کی قیمتوں میں اچانک اور بڑے اضافے کے بعد شروع ہوا۔ اس کے 72 گھنٹے بعد ہی ملک کے چھوٹے اور بڑے شہروں میں عوام موجودہ حکمراں نظام کے سقوط کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس کے جواب میں حکام نے بھرپور کریک ڈاؤن کیا جس کے دوران درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ ہزاروں احتجاجی مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔ سیکورٹی فورسز نے نہتے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ بھی کی۔ مظاہرین میں اکثریت بے روزگار یا کم آمدنی والے نوجوانوں کی تھی۔ ان کی عمریں 19 سے 26 برس کے درمیان تھیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سیاسی دفتر کے سربراہ ید اللہ جوانی نے ایرانی مظاہرین کو "گنوار اور اُجڈ" قرار دیا۔ جوانی کے مطابق دشمن نے انارکی پھیلانے کے لیے ایک لشکر تیار کیا ہے تاہم یہ لشکر وہ اہلیت نہیں رکھتا جو جنگ کے وقت مطلوب ہوتی ہے بلکہ آپ کو ہر جگہ اجڈ قسم کے جتھے نظر آئیں گے۔

اس سے قبل ایرانی صدر کے نائبِ اول اسحاق جہانگیری نے پیر کے روز کہا کہ ملک کی موجودہ صورت حال (1979 کے) انقلاب کے بعد مشکل ترین حالات ہیں۔ اس لیے کہ امریکی توجہ ایران پر مرکوز ہے اور ایرانیوں پر معاشی زندگی کا بڑا دباؤ ہے۔