.

لبنان:سڑک دوبارہ کھلوانے کی کوشش میں متعدد فوجی مظاہرین کے پتھراؤ سے زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے نواح میں مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔ لبنانی فوج نے اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر اطلاع دی ہے کہ فوجیوں نے سوموار کی شب بیروت کے جنوب میں واقع شاہراہ نیمہ کو کھلوانے کی کوشش کی تو مظاہرین ان پر پِل پڑے اور پتھراؤ شروع کردیا۔

بیان کے مطابق مظاہرے میں شریک ایک شخص نے بندوق سے فائرنگ کردی جس کے فوری بعد فوج نے بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ شروع کردی۔

لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں بھی مظاہرین نے شاہراہوں کو بند کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اسکول بسوں اور سرکاری ملازمین کو وہاں سے گذرنے سے روکا جاسکے لیکن فوج نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا اور بند شاہراہیں کھولنا شروع کردیں۔

بعض مظاہرین نے شہر میں واقع ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کے داخلی راستے کو بند کردیا۔مظاہرین نے طرابلس میں متعدد دوسرے تعلیمی اداروں ، سرکاری دفاتر اور محکموں کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا۔ انھوں نے اساتذہ سے تدریسی سرگرمیاں معطل کرنے اور سرکاری ملازمین سے کام نہ کرنے کی اپیل کی۔ ان کے مطالبے پر اساتذہ اور سرکاری ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتال شروع کردی۔

لبنان میں 17 اکتوبر سے ہزاروں شہری حکمراں طبقے کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ مظاہرین نے دارالحکومت بیروت اور بعض دوسرے شہروں میں بڑی شاہراہیں بند کررکھی ہیں۔وہ حکمراں اشرافیہ کی بدعنوانیوں، پست معیار زندگی
،بے روزگاری اور معاشی زبوں حالی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

جلد مثبت پیش رفت

دریں اثناء لبنانی صدر میشیل عوان نے یہ خوش خبری دی ہے کہ آیندہ چند روز میں مثبت پیش رفت ہوگی۔ ان کا اشارہ شاید نئی حکومت کی تشکیل کی جانب تھا۔

اکتوبر کے آخر میں سابق وزیراعظم سعد الحریری کے استعفے کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوچکا ہے اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

مظاہرین نے وزیراعظم کے علاوہ لبنانی صدر اور پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری سمیت تمام حکمران اشرافیہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا لیکن صدر میشیل عون نے ان کے مطالبے پر اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ مظاہرے ان کے خلاف نہیں بلکہ کرپشن کے خلاف کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم سعد الحریری کے استعفے کے بعد لبنان کے طول وعرض میں حکومت مخالف مظاہروں کی شدت میں کمی آئی تھی۔ تاہم چھوٹے چھوٹے گروپ سڑکوں پر موجود رہے ہیں اور وہ ٹیکنو کریٹس پر مشتمل نئی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے درکار اصلاحات کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔