.

آپس میں جڑے بچوں کے آپریشن کا ریکارڈ قائم کرنے والے سعودی مسیحا سےملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں 'اے بی سی' نیوز نے مشہور سعودی سرجن ڈاکٹرعبد اللہ الربیعہ کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ نشر کرکے ان کی جسمانی طورپر آپس میں جڑے بچوں کے سرجری کے ذریعے علاحدگی کی کامیاب خدمات کو شاندار خراج تحسین پیش کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی سرجن ڈاکٹر الربیعہ نے پیشہ وارانہ زندگی کا بیشتر حصہ ایسے بچوں کو آپریشن کے ذریعے علاحدگی کرنے میں گذارا جو پیدائشی آپس میں جسمانی طورپر جڑےہوئے تھے۔ ان میں سے بعض بچوں کے آپریشن انتہائی پیچیدہ تھے مگر سعودی مسیحا کی مہارت اور انسانیت سے ہمدردی کے جذبے نے انہیں ہر آپریشن میں کامیابی سے ہم کنار کیا۔

ٹی وی پر نشر کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ 30 سال سے بچوں کے ڈاکٹر ہونے کے ساتھ شاہی دیوان کے مشیر بھی ہیں۔ الربیعہ اب تک دنیا کے غریب اور پسماندہ ممالک کے پیدائشی آپس میں جڑے دسیوں بچوں کی سرجری کرچکے ہیں۔

گذشتہ ماہ نومبر میں انہوں نے انہوں نے ایک ایسے ہی کیس میں لیبیا سے لائے گئے دو جڑواں بچوں احمد اور محمد کو ایک دوسرے سے آپریشن کر کے الگ کیا۔ یہ ان کا اس نوعیت کا 48 واں کامیاب آپریشن تھا۔

ڈاکٹر ربیعہ نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اب تک ایسے دسیوں بچوں کو جو جسمانی طور پر آپس میں جڑے تھے آپریشن کے ذریعے علاحددہ کیا ہے۔ میری اپنی دو جڑواں بچیاں بھی ایک ساتھ پیدا ہوئیں، اگر ان کے جسم بھی اسی طرح جڑے ہوتے تو ان کا بھی آپریشن کرتے۔

سائنس اور انسانیت دوستی

ریاض میں کنگ عبد اللہ اسپیشلسٹ فار چلڈرن میں واقع الربیعہ ٹوئنز پروگرام کو کئی خیراتی اداروں کی طرف سے تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ اس فنڈ کے ذریعے وہ جسمانی طور پرآپس میں جڑے بچوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں سرجری کے لیے لائے گئے ایسے بچوں کے آپریشن کی باضابطہ طور پر خادم الحرمین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے منظوری دی جاتی ہے۔

انہوں نے' اے بی سی' نیوز کو بتایا کہ وہ اب تک 21 ممالک کے ایسے مسائل سے دوچار بچوں کی سرجری کے ذریعے علاج کرچکے ہیں۔ ان کا قائم کردہ ٹوائنز پروگرام پسماندہ ممالک کے شہریوں کو ہم سفری اور دیگر ضروری اخراجات بھی فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے آپریشن کسی خاص جغرافیائی یاسیاسی حدود کے پابند نہیں بلکہ وہ سائنسی علم اور انسان دوستی کے جذبے کے تحت انسانوں کی خدمت کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں جڑواں بچوں کی سرجری کے ذریعے علیحدگی کا آغاز سب سے پہلے 1990 کی دہائی کے اوائل میں کیا گیا تھا۔ وقت گذرنے کے ساتھ وہ سرکاری عہدوں پر بھی ترقی کرتے گئے مگر اس کے باوجود انہوں نے آپس میں جڑے بچوں کے علاج کے مشن کوترک نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سعودی عرب میں وزیر صحت تھا اور جسمانی طور پر جڑے بچوں کے آپریشن کرتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاج مریض کے لیے دوائی کا حصہ ہے۔ انہوں نے قریبا 100 بچوں کو ایک دوسرے سے الگ کیا جن میں سے 2019ء میں 90 حیات ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشترکہ جڑواں بچے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں ، مینیسوٹا یونیورسٹی کے محققین کے مطابق یہ تناسب دو لاکھ بچوں میں ایک ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا اور افریقا کے ممالک میں یہ شرح 25000 میں ایک ہے۔