.

بغداد میں دستی بم کے حملے میں عراقی سکیورٹی فورسز کے 9 اہلکار زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں سکیورٹی فورسز کے نو اہلکار دستی بم کے ایک حملے میں زخمی ہوگئے ہیں۔ عراقی ٹی وی کی اطلاع کے مطابق بدھ کے روز سکیورٹی اہلکاروں پر مرکزی بنک کے چیک پوائنٹ پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا ہے۔

بغداد آپریشنز کمانڈ نے اس حملے میں اپنے نو افسروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔عراق کے مرکزی بنک کی عمارت بغداد کے وسط میں واقع ہے اور یہی علاقہ اکتوبر سے حکومت مخالف عوامی احتجاجی مظاہروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔

عراق میں گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ سے جاری ان پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں وزیراعظم عادل عبدالمہدی گذشتہ جمعہ کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے اور اتوار کو پارلیمان نے ان کے استعفے کی منظوری دے دی تھی۔

اب عراقی سیاست دانوں نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے صلاح ومشورے جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ نئی حکومت کی تشکیل کے عمل میں سپاہ پاسداران انقلاب ایران کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی بھی مداخلت کررہے ہیں اور وہ ایران نواز شیعہ سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین سے بات چیت کررہے ہیں۔

العربیہ کے نمایندے کے مطابق الفتح اتحاد آیندہ حکومت کی قیادت کے لیے اپنے امیدوار (وزیراعظم )کا نام پیش کرے گا۔اس اتحاد میں شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی سے وابستہ گروپوں کو بالادستی حاصل ہے اور ان کے القدس فورس سے قریبی تعلقات استوار ہیں۔