.

شام : تل ابیض میں ترکی کے حمایت یافتہ گروپوں کے ہاتھوں کُردوں کے گھر منہدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ تل ابیض شہر کے جنوب میں واقع قصبوں میں گھروں کو منہدم کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سے قبل شمالی شام میں سیکڑوں کرد شامی خاندان اُن علاقوں سے نقل مکانی کر گئے جہاں گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران ترکی کے ہمنوا مسلح گروپ داخل ہو گئے تھے۔

ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ترکی نواز گروپوں نے شمالی رقہ کے دیہی علاقے میں تل ابیض کے جنوب میں واقع دیہات میں گھروں کو گرانا شروع کر دیا۔ گرائے جانے والے گھروں میں مقامی طور پر آباد کرد شہریوں کے گھر بھی شامل ہیں جو ترکی کے فوجی آپریشن کے بعد یہاں سے کوچ کر کے جا چکے ہیں۔ ان کے علاوہ مقامی آبادی میں شامل سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ارکان کے گھر بھی مسمار کیے جانے کی کارروائیوں کا شکار ہوئے۔

اس سلسلے میں المرصد گروپ نے 30 نومبر کو بتایا تھا کہ شمال مشرقی شام میں انقرہ کے ہمنوا گروپوں کی جانب سے لوٹ مار کی کارروائیاں جاری ہیں۔ راس العین کے مغرب میں واقع دیہی علاقے کے گاؤں ابو جلود میں مذکورہ گروپوں کے عناصر نے جو کے تین ٹرک بھر کر علاقے سے منتقل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اس گاؤں میں جو کی ملکیت "اصفر و نجار" نامی ایک مسیحی خاندان کے پاس ہے۔ یہ علاقے میں زرعی میدان کا ایک نمایاں گھرانہ ہے۔

اس سے قبل کئی رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ ترکی کے ہمنوا گروپوں کے بعض عناصر نے مقامی لوگوں کے کوچ کرنے کے بعد اُن کے گھروں اور دکانوں پر قبضہ کر لیا۔