شام میں ترکی اور روس کا سمجھوتا ، مسلح گروپوں کے انخلا کے بدلے بجلی کی فراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں انسانی حقوق کے گروپ المرصد نے روس اور ترکی کے درمیان ایک نئے سمجھوتے کا انکشاف کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت انقرہ کے حمایت یافتہ شامی مسلح جنگجو الحسکہ صوبے کے قصبے مبروکہ کے نواح میں واقع بجلی کے ایک پاور اسٹیشن سے نکل جائیں گے۔ مبروکہ قصبہ راس العین شہر کے قریب واقع ہے۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس سمجھوتے پر ابھی تک عمل درامد نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو اور انقرہ کے بیچ اس معاہدے کے مقابل راس العین شہر کو بجلی فراہم کی جائے گی۔ رامی کے مطابق شامی ہلال احمر تنظیم بجلی کے پاور اسٹیشن کے کام کی نگرانی انجام دے گی۔ ترکی کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کے انخلا کے بعد اسٹیشن پر روس اور بشار الاسد کی فورسز موجود ہوں گی۔

مبروکہ کا شمار راس العین اور تل ابیض کے ساتھ شام کے ان نمایاں ترین شہروں اور قصبوں میں ہوتا ہے جن پر ترکی نے اپنے ہمنوا شامی مسلح گروپوں کے ساتھ مل کر کنٹرول حاصل کیا۔ یہ پیش رفت 9 اکتوبر کو دریائے فرات کے مشرق میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے زیر کنٹرول علاقوں پر ترکی کے وسیع فوجی حملے کے بعد سامنے آئی تھی۔

کئی روز پہلے انقرہ کے حمایت یافتہ شامی مسلح عناصر نے پیچھے آ کر الحسکہ کے دیہی علاقے سے اپنی عسکری گاڑیوں اور بھاری ہتھیاروں کو ہٹا لیا تھا۔ اس کے بعد شامی سرکاری فوج نے وہاں داخل ہو کر اطراف میں پوزیشنیں سنبھال لیں۔

چند روز قبل روس اور ترکی کے مشترکہ دستوں نے شام کے دو صوبوں حلب اور الحسکہ کو ملانے والے بین الاقوامی راستےM4 پر گشت کیا۔ ذیلی شاہراہیں شام کے شمال مشرق میں ترکی کے ساتھ سرحد کے نزدیک ملک کے زیادہ تر شہروں اور قصبوں کوM4 سے ملاتے ہیں۔ روس اور ترکی کے بیچ حالیہ مفاہمت کے نتیجے میں مذکورہ بین الاقوامی راستے کے جنوب میں واقع علاقے روس کے زیر نفوذ آ گئے ہیں جب کہ شمالی جانب واقع علاقوں پر ترکی کا کنٹرول ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں