ایران نے عراق میں انارکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میزائل ڈپو بنا لیا : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران نے عراق میں جاری شورش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں اپنا مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا خفیہ اسلحہ خانہ قائم کر لیا۔ امریکی انٹیلی جنس اور فوج کے ذمے داران کے مطابق تہران کا یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں دہشت پھیلانے اور اپنی قوت باور کرانے کی بڑھتی ہوئی کوششوں کا حصہ ہے۔

ایران کی جانب سے عراق میں مذکورہ میزائلوں کے ذخیرے کے حوالے سے نئی انٹیلی جنس معلومات اس بات کی علامت ہے کہ ایران اپنی حدود کے باہر سے حملوں کی اور ان کی ذمے داری سے انکار کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

انٹیلی جنس ذمے داران کے مطابق ایرانی میزائل خطے میں امریکا کے حلیفوں اور شراکت داروں کے لیے خطرہ ہے اور یہ امریکی افواج کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

ایران اور عراق میں آخری چند ہفتوں کے دوران وسیع اور پرتشدد عوامی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ عراق میں لوگ ایران کے بڑھتے ہوئے نفوذ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان میں مسلح افواج کی کمیٹی کے ڈیموکریٹک رکن الیسا سلوٹکن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ عراقی یہ نہیں چاہتے کہ ایران ان کی قیادت کرے تاہم بدقسمتی سے عراق کی مرکزی حکومت میں انارکی اور افراتفری کے سبب ایران عوامی شورش اور احتجاج سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

انٹیلی جنس اداروں میں عسکری ذمے داران کا کہنا ہے کہ تہران مشرق وسطی میں جنگ میں مصروف ہے تاہم وہ خطے میں ممالک پر اپنی ضربوں کو خفیہ رکھتا ہے تا کہ رد عمل بھڑکنے کا موقع کم کیا جا سکے جیسا کہ ارامکو حملوں کے واقعے میں ہوا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے ایران پر بم باری کی تو ایرانی فوج اسرائیل یا خلیجی ممالک پر جوابی حملے کے لیے عراق میں چھپائے گئے اپنے میزائل استعمال کر سکتی ہے۔ صرف ان ہتھیاروں کی موجودگی ہی حملوں کو روکنے کے سلسلے میں ایران کی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

امریکی انٹیلی جنس کے ذمے داران کے مطابق عراق میں موجود مذکورہ ایرانی میزائل مختصر فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی پہنچ 600 میل سے کچھ زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بغداد کے اطراف سے داغے جانے کی صورت میں یہ بیت المقدس تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس سے قبل امریکی انٹیلی جنس کے ذمے داران عراق میں ایران کے نئے میزائلوں سے خبردار کر چکے ہیں۔ اس پر اسرائیل نے فضائی حملوں کے ذریعے ایران کے خفیہ ہتھیاروں کو تباہ کرنے کی کوشش بھی کی۔ تاہم اس کے بعد سے امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ یہ خطرہ بڑھتا جا رہا ہے اور خفیہ طور پر نئے بیلسٹک میزائل منتقل کیے جا رہے ہیں۔

امریکی ذمے داران کے مطابق ایران ان میزائلوں کی نقل و حرکت اور انہیں خفیہ رکھنے کے واسطے عراقی ملیشیاؤں کو استعمال میں لا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے واقعتا عراق میں نقل حمل کے حوالے سے متعدد راستوں، پُلوں اور انفرا اسٹرکچر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس طرح تہران کے لیے عراق میں دراندازی کا عمل آسان ہو گیا۔

شیعہ ملیشیاؤں کے امور کی ماہر الیسا سلوٹکن جنہوں نے حال ہی میں عراقیوں سے ملاقات کے لیے بغداد کا دورہ بھی کیا تھا ،،، ان کا کہنا ہے کہ لوگ اس حقیقت کو مطلوبہ توجہ نہیں دے رہے ہیں کہ ایران نے گذشتہ برس عراق میں بیسلٹک میزائل تعینات کر دیے ہیں۔

امریکی وزارت دفاع کے سکریٹری جون سی روڈ نے بدھ کے روز صحافیوں کو دیے گئے بیان میں کہا کہ واشنگٹن کو مستقبل قریب میں ایران کی جارحیت کے حوالے سے تشویش ہے۔

رواں سال موسم بہار میں تیل بردار جہازوں پر حملوں کے بعد سے خلیج میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کے جواب میں فوجی ضرب نہ لگانے کا آپشن اختیار کیا۔ تاہم انہوں نے امریکی سائبر قیادت کو ایران میں اہداف کو نشانہ بنانے کی اجازت دے دی۔ اگرچہ امریکی فوج اور انٹیلی جنس ے ذمے داران یہ کہہ چکے ہیں کہ اس نوعیت کے سائبر حملے غالبا تہران کو باز نہیں رکھ سکیں گے۔

امریکی فوج کی مرکزی کمان کے کمانڈر جنرل کینتھ ایف میکنزی جونیئر نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ ایران خطے میں اضافی حملوں کی کوشش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں