یمن : حوثی ملیشیا کی جانب سے انسانی امداد کی لوٹ مار جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضے کے بعد سے باغی حوثی ملیشیا کی جانب سے بین الاقوامی اور مقامی امدادی تنظیموں کو بلیک میل کرنے اور امدادی سامان کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔

انسانی امداد کے شعبے میں کام کرنے والے اکثر لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ حوثی باغی عطیہ کنندگان کی جانب سے یمن کو دی جانے والی امداد اور مالی رقوم کو کنٹرول میں لینے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ سال 2014 کے اواخر میں قانونی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد اس ملیشیا کی جانب جنگ چھیڑے جانے کے نتیجے میں یمن کو اس وقت دنیا کے بدترین انسانی المیے کا سامنا ہے۔

حوثیوں کی کارستانیوں کے سبب بعض تنظیمیں رواں سال کی دوسری شش ماہی کے دوران اپنے امدادی منصوبوں کو آئینی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں منتقل کرنے پر مجبور ہو گئیں۔

عدن میں ایک بین الاقوامی امدادی تنظیم کے فیلڈ کوآرڈی نیٹر کا کہنا ہے کہ اگرچہ زیادہ تر تنظیمیں ٹیکس وغیرہ کی ادائیگی کے قانونی اقدامات کو پورا کر رہی ہیں تاہم اس کے باوجود حوثی ملیشیا کی طمع اور حرص آخری دو برسوں کے دوران بڑھ گئی ہے۔ مذکورہ کوآرڈی نیٹر کے مطابق حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ علاقوں میں انسانی امداد کے شعبے میں کام کرنے والے کارکنان کو کسی بھی جگہ سروے کرنے اور ضرورت مند افراد کے چناؤ کی اجازت نہیں ہے۔ حوثی ملیشیا نے امداد وصول کرنے اور ان کو اپنے کارکنان اور جنگجوؤں میں تقسیم کرنے کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے۔

کوآرڈی نیٹر نے مزید بتایا کہ اس نے الحدیدہ میں بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ امدادی سامان تقسیم کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ اس دوران علاقے میں حوثیوں کا ذمے دار آ کر درجنوں افراد کا امدادی سامان وصول کر لیتا تھا اور پھر سب کے سامنے ہی بیوپاریوں کو فروخت کر دیا کرتا تھا۔ صنعاء میں بھی حوثیوں کے نگراں گاڑیوں میں امدادی سامان بھر کے لے جاتے تھے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی معاون برائے انسانی امور اورسولا مولر نے کچھ عرصہ قبل حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں میں امدادی آپریشن میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے ... اور امداد سے مستفید ہونے والوں کا کنٹرول اپنے پاس رکھنے کی کوشش میں رہتی ہے۔

حوثی ملیشیا نے 6 نومبر 2019 کو انسانی امور اور بین الاقوامی تعاون کی رابطہ کاری اور انتظامی امور سنبھالنے کے لیے ایک سپریم کونسل قائم کی تھی۔ فیصلے کے متن میں تنظیموں اور اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ ہر منظور شدہ منصوبے پر 2% کی ادائیگی کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں