حوثی ملیشیا کا عوام پرعرصہ حیات تنگ کرنے کا نیا حربہ

مخلوط سرگرمیوں کی روک تھام کی آڑ میں صنعاء میں درجنوں کیفے بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے دارالحکومت صنعاء میں مخلوط محافل شہریوں کی مخلوط نشست وبرخاست روکنے کے لیے کیفے بند کر نا شروع کردیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعرات کے روز صنعاء میں بیشتر کیفے بند کردیے گئے۔ حوثی ملیشیا کی طرف سے ان کی بندش کے لیے یہ بہانا تراشا گیا ہے کہ یہاں پر مردو خواتین مخلوط طور پرآتے ہیں اور یہ کیفے انہیں مخلوط محافل کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ صنعاء میں موجود کیفے ان کی فتح میں تاخیر کا موجب بن رہے ہیں۔

دارالحکومت صنعاء کی نواکشوط کالونی میں قائم بیت العلم کو بھی بند کردیا گیا۔ بیت العلم ایک کیفے، لائبریری اور ایک بڑے ہال پرمشتمل ہے جس میں شہری تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ مرکز بھی لوگوں کو مخلوط محافل کے انعقاد کا موقع فراہم کرتا ہے۔

قبل ازیں شہریوں کی بنیادی آزادیاں سلب کرنے اور ان پرعرصہ حیات تنگ کرنے کے لیے پرانے صنعاء میں موجود سمسرہ کیفے بھی سیل کردیا تھا۔

پچھلے برسوں کے دوران حوثیوں نے یمنی شہریوں کو مختلف حیلے بہانوں کے تحت اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں عوامی مقامات اور سرکاری یونیورسٹیوں میں اختلاط کو روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے اور ایسے متعدد ادارے بند کردیے گئے تھے جن میں حوثیوں کے نزدیک لوگوں کو مخلوط سرگرمیوں کا موقع ملتا ہے۔

حوثیوں کی طرف سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل بڑھتا جا رہاہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2017ء سے 2019ء تک حوثیوں کے ہاتھوں بنیادی شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کی 25 ہزار خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں