سعودی عرب میں معذور افراد کو کون کون سے مراعات حاصل ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے قائم کردہ کمیشن نے معذور افراد کے بہتری کے لیے واضح قومی اور سرکاری رحجانات کے بارے میں بتایا ہے۔ کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ملک میں موجود معذور افراد کی بہبود اوران کی کفالت کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور حکومتی ادارے معذور افراد کو زیادہ سے زیادہ مراعات اور سہولیات دینے کی کوشش کررہےہیں۔ گذشتہ پانچ برس سے مملکت میں معذور افراد کی بہتری کے لیے کئی اقدامات کیے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اقوام متحدہ کے معذور افراد کی بحالی اور بہبود کے لیے وضع کردہ پروگرام میں شمولیت کی اور اس کے بعد ویژن 2030ء میں معذور افراد پرخصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں معذور افراد کی کفالت کرنے والی باڈی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ہشام الحیدری نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں معذور افراد کی موجودہ صورتحال کا مطالعہ کرنے سے اتھارٹی کو ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے منصوبوں پر عملدرآمد اور ویژن 2030 کی مناسبت سے ان کی ضروریات اورکفالت آسان ہوجائے گی۔ اس طرح معذور افراد کو مربوط خدمات کا جدید ترین نظام مہیا کیا جاسکے گا۔

الحیدری نے وضاحت کی کہ ایک قانون ساز نگران ادارہ کی حیثیت سے معذور افراد کی اتھارٹی کا قیام معذوروں کے لیے حکومتی اداروں کی کار کردگی کو بہتر بنانے اوران کا معیار زندگی مزید بہتر کرنے ، شہریوں کو بھی معذور افراد کی بہبود اور بحال کے مشن میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔ سرکاری اور نجی سیکٹر کوایک دوسرے کےساتھ معذوروں کی کفالت میں تعاون اور اشتراک کا موقع ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ معذوروں کے لیے'قابل رسائی مستقبل' کے نعرے کوعملی شکل دینے کے لیے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معذوروں کو بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں مساوی اور جامع حقوق فراہم کیے جاسکیں۔

انہوں نے مزید کہا معذوروں کی کفالت کے لیے قائم اتھارٹی اور سوشل ڈویلپمنٹ بینک کے مابین ایک معاہدہ طے پایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ معذور افراد کی طرف سے قرضوں کے حصول کی درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں