یمن میں آپریشن کے دوران عالمی قوانین کی پابندی یقینی بنا رہے ہیں:جوائنٹ فورسز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں شامل جوائنٹ فورسز کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شہزادہ فہد بن ترکی بن عبد العزیز نے کہا ہے کہ یمن میں آپریشن کے دوران بین الاقوامی انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشترکہ فورس میں شامل تمام افواج بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی پابندی کرتی ہیں۔

شہزادہ فہد بن ترکی بن عبدالعزیز نے حوثی ملیشیا پر انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا الزام عاید کیا اور کہا کہ حوثیوں کے جنگی حربوں کے نتیجے میں یمنی عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ یمن میں حالات کی خرابی اور انسانی بحران کی تمام ذمہ داری حوثی ملیشیا پرعاید ہوتی ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہارجوائنٹ فورس کی آرمڈ فورسز آفیسر کلب میں منعقدہ ورکشاپ کے اختتام پر کیا۔

اس موقع پر میجر جنرل سعود بن معمر نےاپنی طرف سےورکشاپ کی اہمیت اور اس پر بین الاقوامی انسانی قانون مروجہ روایتی قوانین کے احترام میں فوجی کارروائیوں پر روشنی ڈالی۔

اس ورکشاپ میں ہیومن رائٹس کمیشن ، سعودی ریڈ کریسنٹ اتھارٹی ، پبلک پراسیکیوشن ، کنگ سلمان ریلیف اور ہیومینیٹیر ایکشن سینٹر کے نمائندوں اور متعدد افسران اور مسلح افواج اور مشترکہ فورس کے ممبران نے بھی شرکت کی۔

آخر میں مشترکہ افواج کے کمانڈر کے ذریعہ شرکاء کو کورس کی تکمیل کے سرٹیفکیٹ دیئے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں