ترکی کی شام کے صوبہ ادلب میں دراندازی سے ایک ہفتے میں 38 ہزار افراد بے گھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے شمال مشرقی علاقے میں ترکی کی دراندازی کے نتیجے میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں اڑتیس ہزار شہری بے گھر ہوگئے ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نےاتوار کو ایک بیان میں ان نئے شامی مہاجرین کے بارے میں اطلاع دی ہے لیکن یہ نہیں بتایا ہے کہ ان افراد نے کن علاقوں کا رُخ کیا ہے۔

روس اور شامی فوج کے لڑاکا طیاروں نے القاعدہ سے ماضی میں وابستہ جنگجو گروپ اور اس کے اتحادیوں کے زیر قبضہ رہ جانے والے اس صوبے کے مختلف علاقوں پرفضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان کے نتیجے میں ہفتے کے روز آٹھ بچّوں سمیت انیس شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

ترکی نے 9اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے فوجیوں کو شام سے واپس بلانے کے اعلان کے بعد شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ ترک فوج کو شامی باغی گروپوں کی بھی حمایت حاصل تھی۔اس کا مقصد ترکی کی سرحد کے ساتھ 30 کلومیٹر کے علاقے میں ایک بفر زون کا قیام تھا۔

ترکی کی اس کارروائی کے نتیجے میں کرد فورسز نے عرب اکثریتی 440 کلومیٹرطویل سرحدی علاقے کے 120کلومیٹر طویل حصے سے انخلا سے اتفاق کیا تھا۔

امریکا کی ثالثی میں ترکی اور کرد ملیشیا کے درمیان یہ جنگ بندی طے پائی تھی،تاہم اس کے بعد بھی ان کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ترکی کا بعد میں شامی حکومت کے پشتیبان روس کے ساتھ بھی ایک سمجھوتا طے پایا تھا ۔اس کے تحت انھوں نے کردفورسز کو ترکی کے ساتھ واقع تمام سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹانے سے اتفاق کیا تھا۔

اس سمجھوتے کے تحت شام کے اس شمال مشرقی علاقے میں ترک اور روسی فوجی مشترکہ گشت کررہے ہیں۔ترکی کردملیشیا کے انخلا کی تکمیل کے بعد اس علاقے میں محفوظ زون قائم کرنا چاہتا ہے اور وہاں شامی مہاجرین کو وطن واپس لا کر بسانا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں