شقی القلب فلسطینی باپ نے نوجوان بیٹی کو زندہ درگور کر ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ پٹی میں نوجوان فلسطینی لڑکی کی موت کا واقعہ گذشتہ دو روز کے دوران سوشل میڈیا بالخصوص خواتین کے خلاف تشدد کی مخالف ویب سائٹوں پر چھایا رہا۔

غزہ پٹی کے شمالی شہر بیت لاہیا سے تعلق رکھنے والی بدقسمت ایمان النمنم کو کسی اور نے نہیں بلکہ اس کے اپنے باپ نے موت کی نیند سلا دیا۔ ایمان کے باپ نے اپنی بیٹی کی جان لینے کے لیے اسے گھر سے کچھ فاصلے پر ڈیڑھ میٹر گہرے گڑھے میں زندہ دفن کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اگست میں بھی غزہ پٹی میں ایک اور فلسطینی لڑکی اسراء غریب کی زندگی کا چراغ اس کے اپنے گھر والوں نے بجھا دیا تھا۔

عربی ویب سائٹ "شريكة ولكن" کے مطابق ایمان کی کہانی کا آغاز رواں سال ستمبر میں اس وقت ہوا جب وہ اچانک لا پتہ ہو گئی۔ ایمان کے والد کی جانب سے یہ بات پھیلائی گئی کہ وہ اپنی بیمار ماں کے علاج کی غرض سے اردن چلی گئی ہے۔

البتہ ایمان کی 13 سالہ چھوٹی بہن نے اس کہانی کا یقین نہ کیا اور اپنی ایک اسکول ٹیچر سے اس حوالے سے شکوک کا اظہار کیا۔ خاتون ٹیچر نے غزہ پٹی میں بچوں کے تحفظ کے نیٹ ورک کو اس کی اطلاع پہنچا دی۔

پولیس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ لا پتہ ہونے والی ایمان اپنی ماں کے ساتھ کسی بھی سرحدی گذر گاہ سے نہیں گزری۔ اس کے نتیجے میں ایمان کے والد پر شک کی انگلیاں اٹھنے لگیں جس نے اس سفر کی کہانی پھیلائی تھی۔

بعد ازاں تحقیقات کے دوران دباؤ کے نتیجے میں ایمان کے 52 سالہ باپ نے اعتراف کر لیا کہ اس نے اپنی بیٹی کو 17 ستمبر کی صبح زندہ دفن کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ غزہ میں خواتین کے امور کے مرکز نے اکتوبر میں مطالبہ کیا تھا کہ ایمان کی موت کے بارے میں تفصیلات کا جلد انکشاف کیا جائے اور واقعے کے ذمے داروں کو حراست میں لے کر ان کا احتساب کیا جائے۔

مذکورہ مرکز کے مطابق رواں سال 2019 میں فلسطینی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف قتل کے 20 کیسوں کی تصدیق ہوئی۔ ان میں 16 کیس مغربی کنارے اور 4 کیس غزہ پٹی کے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں