عراقی عدلیہ نے 2626 پرامن مظاہرین رہا کردیے، کئی شہروں میں طلباء کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراقی کی عدلیہ نے مظاہروں کے دوران حراست میں لیے گئے 2626 پرامن مظاہرین کو رہا کردیا ہے۔

عراق کی جوڈیشل کونسل کی طرف سے اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک تفتیشی ادارے نے جانچ پڑتال کے بعد 8 دسمبر 2019ء تک 2626 پرامن مظاہرین کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 181 افراد فی الحال زیرحراست ہیں اور ان کے قانون کے مطابق تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان پر مظاہروں کے دوران پرتشدد طریقے اختیار کرنے کا شبہ ظاہرکیا گیا ہے۔

دوسری طرف اتوار کے روز بغداد میں طلباء کی بڑی تعداد نے جمعہ کے روز بغداد میں مظاہرین کے قتل عام کی تحقیقات کے لیے جلوس نکالے۔ انہوں نے نعرے لگائے کہ 'ہمیں اپنا وطن چاہیے'۔ بغداد سمیت کئی دوسرے شہروں میں طلباء نے تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کیا اور تعلیمی ادارے بند رہے۔

بغداد کےعلاوہ نجف شہر میں بھی احتجاجی جلوس نکالے جب کہ کربلا یونیورسٹی کا گیٹ احتجاجا بند کردیا گیا۔

ادھر مشرقی عراق کے شہر میسان میں بھی طلباء کی بڑی تعداد دھرنے میں شریک ہوئی۔ انہوں نے بھی احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

جنوبی عراق میں المنثیٰ یونیورسٹی کی میڈیکل فیکیلٹی نے بھی احتجاجی مذظاہری کیا اور بغداد اور دوسرے شہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ اکتوبر کے اوائل سے عراق میں خونی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پرتشدد مظاہروں کے دوران سیکڑوں مظاہرین ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں کو گرفتار کیا گیا۔ عراقی عوام حکومت کی بدعنوانی اور ملک میں موجود معاشی ابتری سے نالاں ہیں اور انہوں نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق عراقی پولیس کی طرف سے جاری کردہ اعدادو شمار میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر سے اب تک عراق میں 440 افراد 2000 سے زاید زخمی ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں