لبنان میں وزیراعظم کے انتخاب پر پارلیمانی مشاورت 16 دسمبر تک ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

لبنان کےایوان صدر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سنی ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے دوبارہ سعد حریری کو وزیراعظم مقرر کرنےکے فیصلے بعد وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریوں پر پارلیمانی مشاورت 16 دسمبر تک ملتوری کردی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی مشاورت سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں کو وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے مزید سوچ بچار کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ میں شامل متعدد جماعتوں کی طرف سے بھی وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے مزید وقت مانگا گیا تھا جس کے بعد صدر مملکت میشل عون نے وزیراعظم کے نام پر اتفاق کے لیے 16 دسمبر تک پارلیمانی مشاورت ملتوی کردی ہے۔

خیال رہےکہ حالیہ ایام میں لبنانی کاروباری شخصیت سمیر الخطیب کا نام بھی متوقع وزیراعظم کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔ گذشتہ روز سنی مکتب فکر سےتعلق رکھنے والے پارلیمانی دھڑوں نے لبنان کے مفتی اعظم سے ملاقات کے بعد دوبارہ سعد حریری کے نام پر اتفاق کیا ہے۔

قبل ازیں العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اطلاع ملی تھی کہ پارلیمانی مشاورت کا عمل کچھ دنوں کے لیے ملتوی کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں شام تک ایوان صدر کی طرف سے کوئی بیان جاری ہوسکتا ہے۔ بعد ازاں ایوان صدر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان نے اس خبر کی تصدیق کردی تھی۔

قبل ازیں اتوار کے روز لبنان کی کاروباری شخصیت سمیر خطیب نے وزارتِ عظمیٰ کی امیدواری سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے اتوار کے روز بیروت میں نگران وزیراعظم سعد الحریری سے ملاقات کی ہے اور انھیں اپنے فیصلے سے مطلع کردیا ہے۔

سمیرخطیب نے لبنان کے سنی مفتیِ اعظم شیخ عبداللطیف دریان سے بھی ملاقات کی۔ اس کے بعد انھوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعدالحریری ہی کو نئی حکومت میں وزیراعظم نامزد کرنے پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔اس لیے وہی نئی حکومت کے سربراہ ہوں گے۔

لبنان میں 17 اکتوبر سے ہزاروں شہری حکمراں طبقے کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔وہ حکمراں اشرافیہ کی بدعنوانیوں، پست معیار زندگی،بے روزگاری اور معاشی زبوں حالی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ ارباب اقتدار کو ملک کے معاشی مسائل کا ذمے دار گردان رہے ہیں۔

ان ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد وزیراعظم سعدالحریری 29اکتوبر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔انھوں نے سبکدوش ہوتے وقت کہا تھا کہ’’عہدے تو آنی جانی چیز ہیں لیکن ملک کی سالمیت اور وقار کا تحفظ زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔‘‘

ان کے زیر قیادت جماعت مستقبل تحریک نے کاروباری شخصیت سمیرخطیب کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اورانھیں تمام سیاسی دھڑوں سے مشاورت کے بعد سوموار کو باضابطہ طور پر وزیراعظم نامزد کیا جانے والا تھا۔

لبنان کی دو شیعہ جماعتوں حزب اللہ اور امل نے بھی سمیر خطیب کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔واضح رہے کہ لبنان میں فرقہ وار بنیاد پرمروج نظام حکومت میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنی مسلمان کے لیے مختص ہے اور اس عہدے کے لیے کسی سنی ہی کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔ پارلیمان کا اسپیکر اہل تشیع سے ہوتا ہے اور صدر کا تعلق عیسائی مذہب سے ہوتا ہے۔

لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری نے ایک روز قبل ہی ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ سمیر خطیب کو وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کریں گے۔انھوں نے اخبار الجمہوریہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ابتدا میں تو وزیراعظم سعد الحریری یا ان کے حمایت یافتہ کسی شخص کو نئی حکومت کی قیادت کے لیے نامزد کرنے والا تھا۔اب وہ انجنئیر سمیر خطیب کی حمایت کررہے ہیں اور میں بھی ان ہی کو نامزد کروں گا۔‘‘

یادرہے کہ سعدالحریری پہلی مرتبہ 2005ء میں بھاری ووٹوں سے پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے تھے۔انھوں نے اپنے والد اور تب وزیراعظم رفیق الحریری کے بیروت میں ایک کاربم دھماکے میں قتل کے بعد یہ الیکشن لڑا تھا۔انھوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مستقبل تحریک پارٹی کی قیادت سنبھال لی تھی اور انھیں جون 2009ء میں پہلی مرتبہ وزیراعظم نامزد کیا گیا تھا۔2011ء میں ان کی مخلوط حکومت ختم ہوگئی تھی اور وہ بھی وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہوگئے تھے لیکن دسمبر 2016ء میں انھیں دوبارہ وزیراعظم نامزد کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں