پراگندہ نصابی مواد پڑھانے سے انکار ، حوثی کمانڈر خاتون ٹیچر پر برس پڑا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے ایک بار پھر حوثی ملیشیا کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سخت تنقید کی ہے جنہوں نے ملیشیا کے زیر قبضہ علاقوں میں شہریوں کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

انہوں نے اتوار کی شب رات گئے ٹویٹر پر ایک وڈیو بھی پوسٹ کی۔ وڈیو میں البیضاء شہر میں حوثی ملیشیا کا کمانڈر ایک اسکول میں خاتون ٹیچر پر وحشیانہ انداز سے برستا نظر آ رہا ہے۔

الاریانی نے واضح کیا کہ مذکورہ کمانڈر عبداللہ الجمالی نے خاتون ٹیچر کو البیضاء شہر میں واقع اللسواس اسکول سے برطرف کر دینے کی دھمکی دی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خاتون ٹیچر نے کلاس میں طلبہ کو خرافات پر مبنی وہ مواد پڑھانے سے انکار کر دیا جو ایران نواز حوثی ملیشیا نے تعلیمی نصاب میں ٹھونس دیا ہے۔ اس مواد کا مقصد بچوں کی برین واشنگ اور ان کے ذہنوں میں شدت پسندی پر مبنی افکار کا زہر گھولنا ہے۔

یمنی وزیر کے مطابق حوثی ملیشیا نے اپنی کارستانیوں میں تمام حدوں کو پار کر لیا ہے۔ ملیشیا کی پامالیوں اور جرائم سے یمنی خواتین بھی محفوظ نہیں رہیں۔

اس سے قبل اتوار کے روز ہی معمر الاریانی نے ایک اور وڈیو کلپ پیش کیا تھا جس میں حوثی ملیشیا کا ایک کمانڈر ایاد الابیض اپنے ساتھیوں کے ساتھ اِب صوبے میں ایک پٹرول اسٹیشن پر دھاوا بولتا نظر آ رہا ہے۔ ایاد اور اس کے ساتھیوں نے اسٹیشن کے مالک سلطان العرومی نامی شخص پر حملہ کیا اور اس کی ذاتی اشیاء لوٹ لیں۔ بعد ازاں جائے مقام پر درجنوں شہریوں کی موجودگی کے باوجود حوثی عناصر نے وہاں اندھا دھند فائرنگ بھی کی۔ یہ تمام مناظر سیکورٹی کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو گئے۔

یمنی وزیر اطلاعات نے باور کرایا کہ حوثی ملیشیا روزانہ کی بنیاد پر یمنی شہریوں کے خلاف جرائم اور خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہی ہے۔ اس حوالے سے جو کچھ میڈیا میں پیش کیا جا رہا ہے اور تصویر کا بہت تھوڑا حصہ ہے۔ اس لیے کہ میڈیا کا بلیک آؤٹ چل رہا ہے اور آزادی صحافت کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں