کربلا میں سرکردہ سماجی کارکن قاتلانہ حملے میں ہلاک

فاھم الطائی پرحملے کے لیے سائلنسر ہتھیار استعمال کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے شہر کربلا میں ایک سول کارکن فاہم الطائی کو کل اتوار کے روز نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ عراقی ذرائع ابلاغ نے اس واقعے کی ایک فوٹیج بھی جاری ہے جس میں حملہ آوروں کو الطائی پر سائلنسر پستول سے فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 'سائلنسر ہتھیار'سے لیس ایک نامعلوم گروہ نے البارودی کے مقام پر انصار ہوٹل کے سامنے سماجی کارکن فاہم ابو علی الطائی کو قتل کو گولیاں مار کر قتل کیا۔

عراقی ذرائع ابلاغ پر نشر کی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ الطائی ایک موٹرسائیکل سے اتر کر کیفے میں جا رہے تھے کہ ان کے پیچھے آنے والے ایک دوسرے موٹرسائیکل پر سوار نقاب پوش افراد نے ان پر یکے بعد دیگر تین گولیاں چلائیں۔

فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ الطائی پہلی گولی لگنے کے بعد وہاں سے جان بچانے کے لیے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں مگر حملہ آوروں نے انہیں دوبارہ گولیاں ماریں جس کےنتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے۔ واقعے کے بعد عراقی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور اس نے علاقے کو گھیرے میں کر تفتیش شروع کی۔ اس وقت تک حملہ آور وہاں سے فرار ہوچکے تھے۔ پولیس نے ابو علی الطائی کی لاش تفتیش کے لیے قبضے میں لے لی ہے۔

خیال رہے کہ مقتدیٰ الصدر تحریک سے تعلق رکھنے والے الطائی پر بعض دوسرے مذہبی حلقوں کی طرف سے کارکنوں کو قتل کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

تحریک آزادی کے ایک رکن فہیم ابو علی نے اپنے قتل سے قبل مذہبی حکام پر عراقی کارکنوں کو معزول کرنے کی کوشش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں